رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ دھمکی نہ دے، ہمارے تجربے سے سیکھے: خواجہ آصف


پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف (فائل فوٹو)

اس کشیدہ ماحول میں پاکستان کے سفارتی اور عسکری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اعتماد پر مبنی باہمی تعلقات ہی مثبت پیش رفت کا راستہ ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے اپنے ملک سے متعلق امریکی رہنماؤں کے سخت بیانات پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو الزام تراشیوں سے باز رہنے اور انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے تجربات سے سیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر اپنے ہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائیوں کے مطالبات کرتے ہوئے انتباہی بیانات اور نائب امریکی صدر مائیک پنس کے اس بیان پر کہ امریکہ پاکستان پر نظر رکھے ہوئے ہے ایک بار پھر دونوں ملکوں کے درمیان سخت بیان بیازی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ہفتہ کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد منظور ہونے اور افغانستان میں جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کے اضطراب کا باعث ہیں۔

ان کے بقول، "امریکہ پاکستان کو دھمکی نہ دے اور الزام نہ لگائے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھے اگر یہی مشترکہ مقصد ہے تو۔"

پاکستان کی ان یقین دہانیوں کے باوجود کہ اس نے اپنے ہاں تمام دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کر دیے ہیں، امریکہ کی طرف سے ایسے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا مطالبہ دہرایا جا رہا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے بقول مبینہ طور پر پاکستانی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں حملے کر رہے ہیں۔

تاہم اس کشیدہ ماحول میں پاکستان کے سفارتی اور عسکری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اعتماد پر مبنی باہمی تعلقات ہی مثبت پیش رفت کا راستہ ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزام سے باہمی تعاون پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

نجی ٹی وی چینل "ڈان نیوز" سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جنگ آخری مراحل میں ہے اور اسے وہاں موجود افغان فورسز اور بین الاقوامی افواج نے ہی لڑنا ہے۔

"ہم جو تعاون ضروری ہے وہ کرنے کو تیار ہیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن الزام تراشیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔"

ان کے بقول پاکستان نے سرحد پر اپنی جانب مؤثر نگرانی کے انتظامات کیے ہیں اور فوجی کارروائیوں کے باعث فرار ہو کر افغانستان جانے والے عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فورسز کارروائی نہیں کر سکتیں۔

ایک روز قبل ہی پاکستان کے ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ میں بات کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ وہ بدستور پرامید ہیں کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت سے ان اختلافات کو دور کیا جا سکتا ہے۔

اس اجلاس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ امریکہ حافظ سعید کی گرفتاری میں مدد کے لیے مقرر ایک کروڑ ڈالر انعام کا تذکرہ کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کی طرف سے پاکستان میں ایک بار پھر یک طرفہ کارروائی کا خدشہ موجود ہے۔

اس پر سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ یکطرفہ کارروائی کے مضمرات کے تناظر میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دفاعی امور کے سینئر تجزیہ کار اور پاکستانی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کہتے ہیں کہ امریکہ اگر اپنی پالیسی کے لیے ضروری سمجھے گا تو وہ یکطرفہ کارروائی کر بھی سکتا ہے لیکن یہ بہت افسوسناک امر ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی طرف سے تعاون پر تیار تو ہے لیکن "اگر امریکہ مُصر ہے کہ اس نے پاکستان پر دباؤ بڑھانا ہے تو وہ کئی طرح کے اقدام کر سکتا ہے جیسے کہ امداد بند کرنا یا پھر جیسے ایران پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں ویسی پابندیاں عائد کر کے تو اس سے پاکستان کو بہت نقصان ہو گا۔"

ان کے بقول امریکی انتظامیہ کی طرف سے تندوتیز بیانات اور دباؤ موجودہ حالات میں باہمی تعلقات اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں سودمند ثابت نہیں ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG