رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کا اعزاز، ورلڈ کپ میں ’سیالکوٹی‘ فٹ بالز استعمال ہوں گے


فائل فوٹو

سن 1990ء سے 2010ء کے درمیان ہونے والے تمام ورلڈ کپس میں پاکستانی فٹ بال استعمال ہوئے جبکہ برازیل میں ہونے والے 2014 کے میگا ایونٹ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی فٹبال بھی استعمال کیے گئے۔

پاکستان کا شہر سیالکوٹ کھیلوں کا سامان بنانے کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے خاص کر یہاں تیار کردہ فٹ بالز۔

یہی وجہ ہے کہ سن 1990ء سے 2010ء کے درمیان ہونے والے تمام ورلڈ کپس میں پاکستانی فٹ بال استعمال ہوئے جبکہ برازیل میں ہونے والے 2014 کے میگا ایونٹ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارتی فٹبال بھی استعمال کیے گئے۔

اب ایک مرتبہ پھر رواں سال جون میں روس میں ہونے والے فیفا ورلڈکپ میں پاکستانی فٹ بالز ہی استعمال کیے جائیں گے۔

پاکستان میں تعینات روس کے سفیر ایلکسے ڈیڈووف پہلے ہی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں۔

سیالکوٹ کی جس کمپنی کو فٹبال سپلائی کرنے کا آرڈر ملا ہے اس کے چیئر مین خواجہ مسعود ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف ملک کے لئے باعث فخر ہے بلکہ ہمارے لئے بھی انتہائی خوشی کا سبب ہے۔

سیالکوٹ کی یہ کمپنی دنیا کے ایک بڑے برانڈ ’ایڈیڈس ‘ کے لئے معاہدے کے تحت سالانہ سات لاکھ فٹبالز تیار کرتی ہے۔

فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کی لاہور آمد
پاکستان فٹ بال کھیلنے والے ممالک کی فہرست میں 198نمبر پر ہے اور ورلڈ کپ 2018 میں شریک ٹیموں میں شامل نہیں لیکن اس کے باوجود فیفا کی ٹرافی ہفتہ کو خصوصی طیارے کے ذریعے تھائی لینڈ سے لاہور پہنچی۔ ٹرافی اپریل تک دنیا کے مختلف ممالک کا سفر طے کرے گی۔

اس موقع پر ایک خصوصی تقریب کابھی اہتمام کیا گیا جس میں فٹ بال لورز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا میں سابق فرانسیسی فٹبالر کرسٹیان کیرم، فیفا کے نمائندے کا خصوصی وفد، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان، شوبزنس سے تعلق رکھنے والی شخصیات جیسے مومنہ مستحسن، قر العین بلوچ، مایا علی، زینب عباس و دیگر شامل تھے۔

ٹرافی 18قیراط خالص سونے سے بنائی گئی ہے جس کا وزن چھ کلو ہے۔ فیفا شیڈول کے مطابق یہ ٹرافی اتوار 4 فروری کو قازقستان روانہ ہوگی۔

شیڈول کے مطابق ٹرافی کو چھ براعظموں کے 51 ممالک کے 91 شہروں کا سفر طے کرنا تھا جو 30 اپریل کو جاپان میں ختم ہوگا جہاں سے اسے روس پہنچایا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG