رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کی جانب سے مبینہ فائرنگ، پاکستانی سرحدی محافظ ہلاک


فرنٹیئر کور کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ حملے میں 30 سے زائد ایرانی فوجی اہلکار ملوث تھے جنہوں نے پاکستانی سرحد کے دو کلومیٹر اندر آکر حملہ کیا۔

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کے سرحد پار حملے میں پاک ایران سرحد پر تعینات ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کی پیراملٹری فورس 'فرنٹیئر کور' کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق واقعہ جمعے کو ایرانی سرحد کے ساتھ واقع پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے مند میں پیش آیا۔

جمعے کی شب جاری کیے جانےو الے بیان میں کہا گیا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکار سرحد کے نزدیک بعض مشتبہ افراد کا پیچھا کر رہے تھے جب ایران کے سرحدی اہلکاروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

بیان کے مطابق ایرانی اہلکاروں نے پاکستانی سرحدی محافظوں کی گاڑی پر مارٹر گولے بھی فائر کیے جن کے نتیجے میں ایک پاکستانی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ فائرنگ سے سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی بھی ہوگئی ہے۔

بیان میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ حملے میں 30 سے زائد ایرانی فوجی اہلکار ملوث تھے جو کئی گاڑیوں پر سوار تھے اور انہوں نے پاکستانی سرحد کے دو کلومیٹر اندر آکر حملہ کیا۔

پاکستانی فوجی حکام نے ایران کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں کی پاکستانی حدود میں مداخلت کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

فرنٹیئر کور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد 900 کلومیٹر طویل پاک ایران سرحد پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور مستقبل میں ایرانی اہلکاروں کی مداخلت کو روکنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے ہیں۔

ایران کی جانب سے تاحال پاکستان کے اس الزام پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واقعے سے ایک روز قبل ایرانی فوج 'پاسدارانِ انقلاب' کے نائب سربراہ بریگڈایئر جنرل حسین سلامی نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی فوج ضرورت پڑنے پر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کرسکتی ہے۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی جنرل نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں پاکستانی حکام کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ پاک ایران سرحد کی سکیورٹی میں ناکام رہے تو ایرانی اہلکار دہشت گردوں کے تعاقب پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر کارروائی کریں گے۔

جمعے کو ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایران میں داخل ہونے "باغیوں" کے ساتھ جھڑپ میں ایران کے دو سرحدی محافظ ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی ایرانی حکام نے پاک ایران سرحدی علاقے میں نامعلوم افراد کے حملے میں چار سرحدی محافظوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آور پاکستان سے ایران میں داخل ہوئے تھے۔

تہران حکومت کا موقف رہا ہے کہ ایران مخالف سنی شدت پسند پاکستان کے صوبے بلوچستان میں قائم اپنے ٹھکانوں سے ایرانی سرزمین پر حملے کرتے ہیں اور پاکستانی سکیورٹی اہلکار ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

تاہم پاکستان ایرانی حکومت کے ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔

جمعے کو ہونے والی سرحدی جھڑپ سے چند گھنٹے قبل اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ایران کے بریگیڈیئر جنرل کے الزامات کو ایک بار پھر مسترد کیا تھا۔

ترجمان نے کہا تھا کہ اگر ایرانی حکام کے پاس پاکستان سے سرحد پار کرکے جانے والے دہشت گردوں کے متعلق کوئی معلومات ہیں تو انہیں ان معلومات کا اسلام آباد کے ساتھ تبادلہ کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG