رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں پاکستانی گھریلو ملازمہ کے استحصال اور انسانی اسمگلنگ کا مقدمہ


فائل فوٹو: الیگزینڈریا میں وفاقی عدالت کی عمارت

پاکستان سے گھریلو ملازمہ کے طور پر امریکہ آ کر کام کرنے والی ایک خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ پانچ سالہ ملازمت کے دوران ان سے لیبر ٹریفکنگ کا شکار افراد جیسا استحصالی سلوک روا رکھا گیا۔

خاتون نے، جن کا نام بی بی ظاہر کیا گیا ہے، ریاست ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں انہوں نے ایک پاکستانی خاندان کے گھر کام کے دوران اپنے استحصال کا الزام عائد کیا، اور اس خاندان سے مالی ازالے اور پچھلی تاریخوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

اخبار دی واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق بی بی پاکستان سے ایک سال کے ویزے پر امریکہ آئی تھیں۔ ویزے کی مدت ختم ہونے پر، یحییٰ خاندان نے، جن کے ہاں وہ ملازمت کرتی تھیں، ان کے گھر سے باہرجانے پر پابندی عائد کر دی اور ان کے بقول اکیلے باہر جانے پر انہیں ڈرایا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اگر وہ گھر سے باہر نکلیں تو ان کے خلاف غیرقانونی طور پر امریکہ میں رہنے کی بنا پر قانونی کارروائی کا خطرہ ہے۔

بی بی کا الزام ہے کہ انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔ انہیں پاکستان میں ان کی بیٹیوں کی شادی میں شرکت کے لیے اپنے ملک واپس جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ملازمت کے پہلے دو سال انہیں ایک ایسے سٹور میں رہنے کی جگہ دی گئی جس میں کیڑوں مکوڑوں کی بہتات تھی۔ بعد کے تین سال وہ ایک تہہ خانے میں رہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں خوراک میں گوشت کھانے کی اجازت نہیں تھی اور ہفتے میں صرف ایک بار غسل کرنے دیا جاتا تھا۔

یحییٰ خاندان نے ان الزامات کو جھوٹ اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔

وائس آف امریکہ نے جب وکیل دفاع ٹرے مے فیلڈ سے بی بی کی طرف سے یحییٰ خاندان کے خلاف لگائے گئے بدسلوکی کے الزامات کے متعلق پوچھا تو انہیں نے اپنے موکل کے اس بیان کو دوہرایا جس میں انہوں نے ان الزامات کو جھوٹ اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔

وکیل کے مطابق بی بی کے الزامات صرف الزامات ہیں، وہ ان کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکیں۔

اس سے قبل وکیل دفاع نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملازمہ کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ہیومن ٹریفکنگ کا شکار تھیں۔

انہوں نے اس بات کی تذکرہ بھی کیا کہ وہ پہلی کوشش میں گھر چھوڑ کر چلی گئیں اور کام کرنے کے ناخوشگوار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ٹریفکنگ یا قید کا شکار رہیں۔

دی واشنگٹن پوسٹ میں چھپی تفصیل کے مطابق بی بی نے دعوی کیا ہے کہ یحییٰ خاندان کے ہاں ملازمت کے لیے پاکستان کے ایک بڑے اخبار کے مالک نے ایک معاہدے کے تحت انہیں ملازمت پر رکھا اور امریکہ بھیجا۔ لیکن وائس آف امریکہ بی بی کے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

بی بی کے بیان کے مطابق وہ بالآخر دسمبر 2018 میں ایک اردو بولنے والی خاتون کی مدد سے وہ یحییٰ فیملی کے گھر سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد ریاست ورجینیا میں امیگرنٹ خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے والے غیر سرکاری ادارے طاہری جسٹس سنٹر نے ان کی مدد کی۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پاکستانی خاتون بی بی کی وکیل الیگزانڈرا برشاد نے بی بی کی طرف سے طاہری جسٹس سنٹر سے مدد لینے کی تصدیق کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ مناسب امیگریشن کے لئے قانونی چارہ جوئی کے معاملے پر بی بی کی مدد کر رہا ہے، جیسے کہ ٹریفکنگ کا شکار ہونے والے دیگر افراد کی مدد کی جاتی ہے، لیکن بی بی کی امریکہ میں مستقل سکونت کی درخواست یا انہیں امریکہ لانے والے خاندان کے خلاف کسی سول مقدمے میں ان کا ادارہ بی بی کو کسی قسم کی قانونی مدد فراہم نہیں کر رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG