رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر کے وزیرِ اعظم کی متنازع آڈیو پر معذرت


پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی عمارت کا ایک منظر

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے سینئر پارٹی عہدیدار اور ایک خاتون کے خلاف غیر مناسب الفاظ کے استعمال پر معذرت کر لی ہے۔

بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے سابق وزیر اعظم سردار سکندر حیات کے خلاف سخت الفاظ کے استعمال اور مسلم لیگ ن چھوڑنے والی ایک خاتون رہنما کو برا بھلا کہنے پر معذرت کر لی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کا فون بھی ٹیپ کیا جاتا ہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون ان کے فون کو چوری چھپے ریکارڈ کرتا ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وزیراعظم فاروق حیدر سرکاری فون پر اپنے ایک وزیر سے گفتگو کے دوران ایک ڈرائیور اور پارٹی چھوڑنے والی ایک خاتون کو نام لیے بغیر برا بھلا کہنے اور سابق وزیراعظم سکندر حیات اور ایک موجودہ وزیر راجہ قیوم خان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے سنے گئے تھے۔جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے ان کے خلاف مظاہرے اور استعفےکا مطالبہ کیا۔

جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رکن حسن خالد ابراھیم نے کہا، چونکہ وزیر اعظم نے نازیبا زبان کے استعمال کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے وہ استعفیٰ دے دیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم فاروق حیدر خان نے سابق وزیر اعظم سکندر حیات کے لیے نئی سرکاری گاڑی کی خریداری کے لیے 70 لاکھ روپے کی بھی منظوری دی ہے۔

وزیر اعظم کے ترحمان راجہ وسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سرکاری گاڑی کا استعمال سابق وزرائے اعظم کا استحقاق ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 2016 سے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے۔ جسے 2017 سے پاکستان میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی تنزلی کے بعد سے حزب اختلاف اور پالیمانی پارٹی کے اندر سے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی کابینہ میں 26 وزرا اور مشیر شامل کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG