رسائی کے لنکس

logo-print

سیاحت کا سال: پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ٹورزم پولیس کا قیام


پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ساحت کے سال کے موقع پر ٹورزم پولیس قائم کی گئی ہے۔ موٹرسائیکل سوار اہل کاروں کی جاری کی جانے والی تصویر۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جن کے تحفظ اور راہنمائی کے لیے ٹورزم پولیس کے نام سے خصوصی پولیس فورس کا ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا ہے۔

محکمہ سیاحت کے ناظم اعلیٰ ارشاد پیر زادہ نے بتایا کہ ٹورزم پولیس کے قیام کا مقصد دنیا بھر کی طرح کشمیر میں آنے والے سیاحوں کو ہر طرح کی مدد اور راہنمائی مہیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ٹورزم پولیس کے قیام سے سیاحوں کو ہراساں اور خوفزدہ کیے جانے کے واقعات کا خاتمہ ہو گا۔

ٹورزم پولیس سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک رسائی سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کرے گی۔

پاکستانی کنٹرول کے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور ایک نجی سیاحتی ادارے کے سربراہ عبدالماجد خان کا کہنا ہے کہ حکومت کو سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر مزید سیاحتی قیام گاہوں کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھنے چاہیئں تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے ساتھ پولیس کے نامناسب رویے کی شکایات کے بعد ٹورزم پولیس کا قیام ایک مثبت قدم ہے۔

محکمہ سیاحت کے سابق سیکرٹری ریاض احمد خان کہتے ہیں کہ اس وقت کشمیر کے تفریحی مقامات کی جانب سیاحوں کا رجحان زیادہ ہے، لیکن ان کے قیام اور طعام کے لیے سیاحتی مقامات پر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے سیاحوں کو کھانے پینے اور قیام کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پہلو پو بھی توجہ دینی چاہیے۔

کشمیر کے قدرتی حسن، آب و ہوا اور جنگ بندی لائن پر نسبتاً امن قائم ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

سرسبز اور گھنے جنگلات سے ڈھکے پہاڑوں، شفاف پانیوں کی نیلگوں جھیلوں، گنگناتے آبشاروں، گہرائیوں میں بہتے دریاؤں اور ندی نالوں سے مزین لائن آف کنٹرول سے ملحق چکوٹھی، لیپہ، نیلم، سدھن گلی، گنگا چوٹی اور راولاکوٹ کے علاقوں میں موسم گرما کے دوران بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت 2019 کو سیاحت کا سال قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG