رسائی کے لنکس

پاکستانی شہری کو یہودی مذہب اختیار کرنے کا حق مل گیا: اخباری رپورٹ


فیشل بن خلد، جو فیصل کے نام سے بطور مسلمان ’نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ میں رجسٹرڈ ہیں، انہوں نے نادرا کے ریکارڈ میں اپنا مذہب اسلام سے یہودیت کرنے کی استدعا کی تھی۔ ادھر، نادرا اہلکار کے بقول ’’پاکستان میں یہودیوں کے745خاندان رجسٹرڈ ہیں‘‘

اسلام آباد کے ایک رہائشی پاکستانی شہری کو اپنی مرضی سے یہودی مذہب اختیار کرنے کا حق مل گیا۔ 29 سال کے فیشل بن خلد کے والدین مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ماں یہودی اور والد مسلمان تھے۔

فیشل بن خلد، جو فیصل کے نام سے بطور مسلمان نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں رجسٹرڈ ہیں، انہوں نے نادرا کے ریکارڈ میں اپنا مذہب اسلام سے یہودیت کرنے کی استدعا کی تھی۔

وزارت داخلہ نے حال ہی میں ان کی درخواست پر شناختی دستاویزات میں ان کا مذہب اسلام سے تبدیل کرکے یہودیت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

انگریزی اخبار ’ٹری بیون‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، فیصل کے والد مسلمان جبکہ والدہ یہودی تھیں اور وہ 1987ء میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ نادرا کے ریکارڈ میں والد کے مذہب کی وجہ سے فیصل کا اندراج بطور مسلمان کیا گیا تھا۔

جیسا کہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ بن خلد نے گزشتہ دنوں نادرا میں درخواست دی کہ انہوں نے پچھلے سال اسمارٹ کارڈ کے لئے درخواست دی تھی کہ ان کے مذہب کا اندراج اسلام کے بجائے یہودیت کیا جائے۔ نادرا نے بن خلد کے ریکارڈ میں مذہب کے خانے میں تبدیلی کے لئے وزارت داخلہ سے مشاورت طلب کی۔

رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں کہا کہ درخواست گزار کو اس کی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی اجازت دی جائے۔

معاملے کی حساس نوعیت کے باعث عام طور پر نادرا تبدیلی مذہب کی درخواست مسترد کر دیتی ہے۔ وزارت داخلہ کے ’گرین سگنل‘ کے باوجود، نادرا نے بن خلد کو اب تک ترمیم شدہ اسمارٹ کارڈ جاری نہیں کیا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق، بن خلد کے تبدیلی مذہب کے حوالے سے نادرا اور وزارت داخلہ میں مشاورت رواں سال فرروی اور مارچ میں ہوئی۔

رپورٹ میں بن خلد سے فون پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلد نے اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کا حق دینے پر نادرا اور وزارت داخلہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ خلد کے بقول، انہوں نے بچپن میں مذہب اسلام کا مطالعہ کیا تھا۔ تاہم، کبھی بھی اسلام اختیار نہیں کیا۔

ان کے بقول ’’میرا کیس ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اسے مارچ اپریل میں یہودیوں کی مصر کی غلامی سے آزادی کا جشن منانے کے لئے پاکستانی حکام کی جانب سے تحفہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘

بن خلد جو کراچی میں یہودیوں کے قدیم قبرستان کو محفوظ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایک اہم سنگ میل کامیابی سے عبور ہوگیا ہے۔

بن خلد نے بتایا کہ ملک میں جاری مردم شماری میں انہوں نے مذہب کے کالم میں خود کو یہودی ظاہر کیا۔ ان کی والدہ 1996 اور والد 1998 میں چل بسے تھے۔

پاکستان میں یہودیوں کی تعداد بہت کم ہے اور عام طور پر یہودی اپنی شناخت عوامی طور پر ظاہر نہیں کرتے۔ نادرا کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ میں یہودیوں کی تفصیلات مثلاً گھر کا پتا وغیرہ صیغہٴ راز میں رکھی جاتی ہیں۔ اہلکار کے بقول پاکستان میں یہودیوں کے745خاندان رجسٹرڈ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور مذہبی اسکالر مفتی عبدالستار کا کہنا ہے کہ بچے پر اپنے والد یا والدہ کا مذہب اختیار کرنے کی پابندی نہیں۔ بالغ ہونے پر اگر اس نے اسلام کو بطور مذہب اختیار نہیں کیا اور بطور مسلمان مذہبی فرائض انجام نہیں دئیے تو وہ اپنی مرضی کا مذہب اپنانے کے لئے آزاد ہے۔

بن خلد کا دعویٰٰ ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اسلامی رسومات اور فرائض انجام نہیں دئیے بلکہ وہ ہمیشہ یہودی مذہب کی پیروی کرتے آئے ہیں۔

مفتی عبدالستار کے مطابق، فقہ حنفیہ میں اگر کوئی شخص اسلام قبول کرے اور پھر اس سے منکر ہو جائے اور کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے تو ایسا مرد یا خاتون قابل سزا ہے۔ ایسے شخص کو تین دن کے لئے جیل میں قید کرکے فیصلے پر نظر ثانی کا موقع دیا جائے اور اگر اس کے بعد بھی وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے تو اسے سزائے موت دی جائے۔ تاہم، یہ فتویٰ ان ملکوں میں نافذ العمل ہے جہاں شرعی قوانین مکمل طور پر نافذ ہیں، ناکہ پاکستان میں جہاں شرعی قوانین کا نفاذ جزوی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG