رسائی کے لنکس

افغانستان کی بدلتی صورت حال پر پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس طلب


پاکستانی پارلیمنٹ کی عمارت، فائل فوٹو
پاکستانی پارلیمنٹ کی عمارت، فائل فوٹو

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے باعث خطے کی بدلتی صورت حال کو دیکھنے کے لئے پاکستان کی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

پارلیمانی قیادت کے اس غیر معمولی اجلاس میں عسکری قیادت خطے کی صورت حال اور قومی سلامتی سے متعلق امور سمیت افغانستان سے انخلا، امریکہ کی جانب سے فضائی اڈوں کے مطالبے اور مسئلہ کشمیر پر بریفنگ دے گی۔

حزب اختلاف کی قیادت نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل اس کمیٹی کے اجلاس کے بلانے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت حال بگڑتی ہے تو پاکستان اپنے بارڈر کو نہیں کھولے گا۔

عمران خان یہ بھی اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کو اپنے فضائی اڈے نہیں دے گا۔

اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں سیاسی قائدین کا یہ بند کمرہ اجلاس یکم جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا۔ اس اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کمیٹی کے رکن وفاقی وزراء شریک ہوں گے۔

اسد قیصر، اسپیکر قومی اسمبلی
اسد قیصر، اسپیکر قومی اسمبلی

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل، فیض حمید بھی اس بریفنگ میں شریک ہوں گے۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے تصدیق کی کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف کی اعلی قیادت شریک ہو گی جس میں قومی سلامتی سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں وزیراعظم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے قومی سلامتی کمیٹی کا طلب کردہ اجلاس حزب اختلاف کی عدم شرکت کے اعلان کے بعد ملتوی کرنا پڑا تھا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی
بلاول بھٹو زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان فیصل کریم کنڈی کہتے ہیں کہ ان کے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے بجٹ اجلاس کے دوران اسپیکر سے مطالبہ کیا تھا کہ قومی سلامتی کی سوئی ہوئی کمیٹی کو جگایا جائے اور افغانستان پر سیاسی قیادت کو بریفنگ دی جائے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ خطے میں رونما ہونے والی اہم تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پاکستان سے جو آواز بھی جائے وہ پارلیمنٹ سے جانی چاہئے تاکہ دنیا اسے کسی ایک شخص کی بجائے پوری پاکستانی عوام کا موقف سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورت حال پاکستان کے سرگرم کردار کی متقاضی ہے اور ہم خاموش تماشائی نہیں بن سکتے کیونکہ اس کے اثرات پاکستان پر آئیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کا یہ کہہ دینا کہ بارڈر نہیں کھولیں گے کافی نہیں کیونکہ شورش کے نتیجے میں جب لاکھوں افراد بارڈر پر آئیں گے تو آپ کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دوسروں کی لڑائی میں نہیں جانا چاہئے اور وزیر اعظم کا طالبان سے یہ کہنا کہ کابل پر قبضہ نہ کریں، سوالیہ نشان ہے۔

غیر ملکی افواج کا انخلا، افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:46 0:00

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، بلاول بھٹو سمیت تمام پارلیمانی لیڈرز کو شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔

اس اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری، وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، شیریں مزاری، اسد عمر،فواد چوہدری، شیخ رشید،شوکت ترین،بابر اعوان و دیگر اجلاس میں شریک ہوں گے۔

جب کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خالد مقبول صدیقی،غوث بخش مہر، اخترمینگل،شاہ زین بگٹی ،یوسف رضا گیلانی، خالد مگسی، شیری رحمان، فیصل سبزواری، عبدالغفور حیدری کی شرکت متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG