رسائی کے لنکس

'پاکستان میں 20 ہزار چینی شہری کام کر رہے ہیں'


سینیٹر مشاہد حسین سید (فائل فوٹو)

مشاہد حسین سید نے کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق پاکستانی پارلیمان کی کمیٹی کے سربراہ نے ان قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ چین اس راہداری منصوبے کی آڑ میں پاکستان پر قبضہ کر لے گا۔

اسلام آباد میں تیسرے سی پیک میڈیا فورم کے موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں 20 ہزار سے کچھ کم چینی باشندے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں لیکن بعض عناصر مستقل یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ چین اس راہداری منصوبے کے ذریعے پاکستان پر قابض ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں چینی کمپنیاں 300 مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور ان کے بقول "نو ہزار سے زائد چینی شہری سی پیک کے تحت جب کہ لگ بھگ 10 ہزار کے لگ بھگ شہری راہداری منصوبے سے ہٹ کر جاری دیگر منصوبوں سے وابستہ ہیں۔"

فورم میں جب مشاہد حسین سے سی پیک پر امریکہ کے اس اعتراض کی بابت پوچھا گیا کہ یہ منصوبہ ان علاقوں سے گزرتا ہے جو متنازع ہیں، تو پاکستانی سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 50 سال قبل اسی علاقے میں منگلا ڈیم کی تعمیر میں حصہ لیا تھا "جسے اب وہ متنازع تصور کر رہا ہے کیونکہ اس منصوبے میں اب چین شامل ہے۔"

قبل ازیں فورم کا افتتاح کرتے ہوئے اسلام آباد میں بیجنگ کے سفیر یاؤ جنگ نے سی پیک کو "چین اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات کا کلیدی جز" قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کو سی پیک سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ رکھنے پر آمادہ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG