رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی شارٹ فلم ’بات چیت‘ کانز فیسٹیول کا حصہ ہوگی


عالمی سطح پر’کانز فلم فیسٹیول‘ کو انتہائی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس میلے میں کسی بھی فلم کی نمائش فخر کا باعث ہوتی ہے۔ خوشی کی خبر ہے کہ پاکستانی شارٹ فلم ’بات چیت‘ کو اس فیسٹیول کا حصہ بنایا جا رہا ہے

پاکستانی فلمیں جس تیزی سے بین الاقوامی فلمی میلوں میں پذیرائی حاصل کر رہی ہیں، اُسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان فلم انڈسٹری دنیا بھر میں اپنی ایک علیحدہ پہچان بنانے میں بہت جلد کامیاب ہوجائے گی، اور یہ کہ، پاکستانی سینما ایک بار پھر عروج کے قریب ہے۔

کانز فلم فیسٹیول کی ہی مثال لے لیں۔ پوری دنیا میں کانز فیسٹیول انتہائی معتبر سمجھا جاتا ہے۔ خوشی کی خبر ہے کہ پاکستانی شارٹ فلم ’بات چیت‘ اسی فیسٹیول میں نمائندگی کی غرض سے بھیجی جارہی ہے۔ فیسٹیول 13مئی کو شروع ہوکر 24مئی کو اختتام پذیر ہوگا۔

یہ وہی فلم ہے جو اس سے قبل انڈونیشیا میں ہونے والے دستاویزی اور مختصر فلموں کی کیٹیگری میں یک نہ شد۔۔تین شد۔۔۔تین گولڈ ایوارڈز جیت چکی ہے۔

فلم کا دورانیہ صرف دس منٹ ہے۔ اس کی کہانی چائے کی ٹیبل پر بیٹھے دودستوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کی پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور رائٹر ایک ہی ہیں ۔۔اور وہ ہیں ریاکہ چوہدری۔

ٹی وی کی ورسٹائل ایکٹریس ثروت گیلانی اور جوشندر چگر نے فلم میں مرکزی کردار ادا کئے ہیں، جبکہ فہد مرزا، وسعت اللہ خان اور حماد حسن عسکری بھی فلم کا حصہ ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کے ایک مؤقر انگریزی رونامے’ڈان‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ثروت گیلانی نے کہا تھا ’اول تو کانز فلم فیسٹیول تک رسائی ہی پاکستان کے لئے انتہائی خوشی اور قابل فخر بات ہے۔پھر پاکستانی ٹیلنٹ کو دنیا بھر میں پذیرائی ملے تو اس سے بڑھ کراور کیا ہوسکتا ہے۔۔‘

انہوں نے ریاکہ چوہدری کے کام کو سراہتے ہوئے کہا ’ریاکہ نے دس منٹ میں بہت خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ لوگوں تک اپنی بات پہنچائی ہے۔ فلم ’بات چیت‘ میں ڈائیلاگز کم اور چہرے کے تاثرات سے زیادہ کام لینا تھا جو کسی مشکل چیلنج سے کسی طرح کم نہیں تھا۔۔مگر میں نے کام سے بہت انجوائے کیا۔‘

XS
SM
MD
LG