رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں پاکستانی نژاد طالبہ پر تیزاب سے حملہ، پولیس کو حملہ آور کی تلاش


لانگ آئی لینڈ میں مارچ میں نافعہ اکرام پر نامعلوم شخص نے تیزاب سے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کا چہرہ جھلس گیا تھا اور کئی ہفتے اسپتال میں رہنا پڑا ہے۔

امریکہ کی ریاست نیو یارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ میں پاکستانی نژاد طالبہ نافعہ اکرام پر نامعلوم شخص نے تیزاب سے حملہ کیا تھا۔ پولیس اس حملہ آور کی تلاش میں ہے جب کہ اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو انعام دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

لانگ آئی لینڈ میں مارچ میں نافعہ اکرام پر نامعلوم شخص نے تیزاب سے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے ان کا چہرہ جھلس گیا تھا اور کئی ہفتے اسپتال میں رہنا پڑا ہے۔

اکیس برس کی نافعہ اکرام امریکہ کی ہافسٹرا یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔ مارچ کی 17 تاریخ کو رات آٹھ بجے وہ اپنی والدہ کے ساتھ اشیائے خور و نوش لے کر گھر پہنچی ہی تھیں کہ ان پر ایک نامعلوم حملہ آور نے سفید کپ میں موجود سیال مادہ پھینک دیا تھا۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق اس کپ میں بیٹریوں میں موجود تیزاب تھا جس کی وجہ سے نافعہ اکرام کا چہرہ بری طرح جھلس گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی آنکھ بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جب کہ درد کی شدت کی وجہ سے نافعہ کے چلانے سے یہ تیزاب ان کے حلق میں بھی پہنچ گیا تھا جس کے باعث ان کے پھیپھڑے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ نہ ہی پولیس کو ابھی تک حملے کی وجوہات معلوم ہوئی ہیں۔

اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق پولیس نے حملہ آور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر پہلے دس ہزار ڈالر کا انعام رکھا تھا۔ بعد ازاں نساؤ کاؤنٹی، جہاں یہ حملہ ہوا تھا، کی چیف ایگزیکٹو لارا کیوران نے ٹوئٹر پر اس بارے میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نافعہ اکرام پر ہونے والے حملے کے بارے میں معلومات دینے والے کا انعام بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک ہوڈی پہنے ہوئے شخص کو نافعہ اکرام پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

’نیویارک ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے نافعہ نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ وہ زندہ ہیں۔ ان کے بقول وہ ابھی تک اس حملے کی وجہ سمجھ نہیں پائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور کے پکڑے جانے کے بعد ہی انہیں حملے کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔ ان کے بقول وہ ابھی بس اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مقامی ٹیلی وژن چینل ’ڈبلیو کے بی این فرسٹ نیوز27‘ سے بات کرتے ہوئے نافعہ اکرام کے والد شیخ اکرام نے کہا کہ ان کے خیال میں حملہ آور نافعہ کو جانتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے حملہ آور کو نافعہ کے گھر پہنچنے کے اوقات کا علم تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ نفرت پر مبنی جرم ہے اور نافعہ کو ہدف بنایا گیا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نافعہ حملے کے بعد بہت زیادہ خوف زدہ ہے۔ وہ خوف کے مارے گھر کے دروازے سے باہر قدم نہیں رکھتی اور انہیں ابھی تک کھانے پینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

نافعہ کے خاندان کی جانب سے انٹرنیٹ پر ان کے علاج معالجے کے لیے رقم جمع کرنے کی غرض سے گو فنڈ می اکاؤنٹ بنایا گیا تھا۔

اس اکاؤنٹ میں اب تک 11 ہزار 800 افراد نے چار لاکھ 77 ہزار 400 ڈالر دیے ہیں۔

خاندان کے مطابق نافعہ اکرام کے علاج کی مد میں اب تک لاکھوں ڈالر کا بل بن چکا ہے۔ اپنے گو فنڈ می پیج پر خاندان نے لکھا کہ انہیں ابھی تک یہ علم نہیں کہ نافعہ کے علاج پر مستقبل میں کتنا خرچہ ہو گا۔

پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گہا ہے کہ یہ ایک وحشیانہ حملہ ہے۔

پولیس کمشنر نے عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کرنے کے ساتھ ساتھ حملہ آور کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دے۔ کیوں کہ وہ اسے جلد ہی گرفتار کر لیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی طالبہ کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نیویارک میں پاکستان کی کونسل جنرل نافعہ اکرام کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG