رسائی کے لنکس

امریکہ میں آباد پاکستانی امریکی نوجوانوں کی نئی اعلیٰ تعلیم یافتہ نسل کے لیے اپنی مصروف پروفیشنل یا کاروباری زندگی کی وجہ سے اور دور دور ریاستوں میں آباد اپنی کمیونٹی کی وجہ سے اپنی پسند کے شریک حیات کی تلاش ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے۔

اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ لوگ انفرادی طور پر رشتوں کی تلاش میں مدد کرتے ہیں یا پھر شادی بیاہ کی ویب سائٹس اس سلسلے میں وسیلہ بننے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن دونوں صورتوں میں کئی کئی ماہ اور بعض اوقات کئی کئی سال بعد بھی کسی ہم مزاج اور ہم عادات جیون ساتھی کی تلاش ممکن نہیں ہو پاتی ۔ جس کی ایک بڑی وجہ طویل فاصلے ہیں اور دور دور ریاستوں میں آباد پاکستانی امریکی اور مسلم نوجوانوں اور ان کے گھرانوں کے درمیان براہ راست ملاقات اور میل ملاپ کے مواقعوں کا فقدان ہےجو کسی بھی پائیدار رشتے کی تشکیل میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک براہ راست حل پیش کرنے کی ایک کوشش کی ہے نیو یارک میں آباد ایک معروف پاکستانی امریکی سماجی کارکن محسن جمال نے جنہوں نے شریک حیات کی تلاش میں آسانی اور تیزی لانے میں مدد کے لیے ایک ادارہ قائم کیا ہے، نام ہے جس کا ملن یو ایس ڈاٹ کام ۔

جمال محسن، بانی یوایس ملن ڈاٹ کام
جمال محسن، بانی یوایس ملن ڈاٹ کام

گزشتہ دنوں وائس آف امریکہ اردو سروس کے پروگرام ہر دم رواں ہے زندگی میں شرکت کرتے ہوئے ادارے کے فاؤنڈر جمال محسن نے بتایا کہ گزشتہ گیارہ سال سے قائم ان کا ادارہ شادی کی عمروں کو پہنچنے والے تعلیم یافتہ اور بر سر روزگار پروفیشنل پاکستانی امریکی اور مسلمان امریکی نوجوانوں کو ایک دوسرے سے اسلامی ماحول میں براہ راست ملاقات، بات چیت اور نیٹ ورکنگ کا موقع فراہم کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے۔

یہ ادارہ سال میں دو بار نیو یارک کے کسی معیاری ریستوران میں ایک خوبصورت اور پر وقار اسلامی ماحول میں ایک تقریب منعقد کرتا ہے جس میں امریکہ بھر سے جیون ساتھی کی تلاش میں کوشاں لگ بھر 70امیدوار اپنے والدین یا اہل خانہ کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔ جس دوران انہیں ایک دوسرے سے براہ راست متعارف ہونے، بات چیت کرنے اور اپنی پسند کے امکانی جیون ساتھیوں سے مستقبل میں بات چیت بڑھانے کے لیے فون یا میلنگ ایڈریس لینے کا موقع ملتا ہے ۔

اس تقریب کی تفصیلات بتاتے ہوئے جمال محسن نے کہا کہ وہ اس سے قبل نیو یارک کے علاوہ دوسری امریکی ریاستوں میں بھی ایسی تقربیات کا انعقاد کرا چکے ہیں لیکن چوں کہ یہ ادارہ نیو یارک کی کاروباری اور پروفیشنل شخصيات رضاکارانہ طور پر چلا رہی ہیں اس لیے ان کے لیے دوسری ریاستوں میں ان تقربیات کا اہتمام کرانا ممکن نہیں رہا اور اب یہ تقربیات صرف نیویارک ہی میں منعقد ہوتی ہیں جس کے لیے نیو یارک کے علاوہ امریکہ کی دوسری ریاستوں سے جیون ساتھی کی تلاش کے امیدوار اور ان کے والدین یا اہل خانہ ا ٓن لائن اپنی رجسٹریشن کراتے ہیں اور تقریب میں تلاش رشتہ کے اپنی کوشش میں تیزی لانے کا موقع حاصل کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان تقربیات میں ڈاکٹرز ، انجنیئرز، اور مختلف شعبوں کے تعلیم یافتہ پروفیشنلز شامل ہوتے ہیں۔

جمال محسن نے بتایا کہ اس تقریب کے دوران ان نوجوانوں کے والدین اور گھرانوں کے افراد جن کے لیے الگ سے نشستوں کا بندو بست کیا جاتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھرانوں کے بارے میں مطلوبہ معلومات حاصل کرتے ہیں جس کے بعد وہ سب نوجوان اور ان کے گھرانوں کے افراد مل کر ایک لنچ میں شرکت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں معلومات اور رابطے کے نمبرز اور ای میلز کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوتے ہیں اور واپس جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار سے مزید ربط ضبط قائم کر کے اپنے شریک حیات کے چناؤ کا کوئی حتمی فیصلہ کرتے ہیں یا پھر ایسی ہی کسی اگلی تقریب میں شرکت کرکے اپنی تلاش کے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔

جمال محسن نے کہا کہ ان کا ادارہ اب تک سولہ سو سنگلز کو ایک دوسرے سے متعارف کرا چکاہے اور اسلامی ماحول میں ہونے والی چند گھنٹوں کی براہ راست اور بالمشافہ ملاقاتوں اور نیٹ ورکنگ کی ان تقربیات کے نتیجے میں متعدد نوجوان اپنے شریک حیات کی تلاش میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

ملن یو ایس ڈاٹ کام نیویارک اور مختلف ریاستوں میں آباد پاکستانی امریکی اور مسلم کمیونٹی کے گریجوایٹ اور پروفیشنل نوجوانوں کو ایک ہی دن ، چند گھنٹوں کی ایک پر وقار اور سنجیدہ تقریب میں ایک دوسرے سے براہ راست ملاقات اور نیٹ ورکنگ کا موقع فراہم کر کے انہیں شادی بیاہ کی ویب سائٹس پر اپنے جیون ساتھی کی تلاش میں اپنے وقت اور پیسے کے ضیاع سے بچانے اور جیون ساتھی کی تلاش کے ان کے سفر کو مختصر کرنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملن ، امریکہ میں آباد پاکستانی اور مسلم نوجوانوں کے لیے شریک حیات کی تلاش کو تیز تر اور آسان تر بنانے کے ایک ایسے نئے رجحان اور انداز کو فروغ دے رہا ہے جو پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کے افراد کے لیے ایک قابل قبول اور پسندیدہ متبادل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG