رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کا شکار ہونے والی مشہور اور معروف عالمی شخصیات


کرونا وائرس، فائل فوٹو

کرونا وائرس انسانوں کے سماجی مرتبے، ان کے عہدوں سے بے نیاز ہر، اس شخص کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا نظر آتا ہے جس نے سماجی میل ملاپ سے دوری میں سستی روا رکھی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس وقت علاج سے زیادہ اہم پرہیز ہے اور سب سے مؤثر پرہیز سماجی زندگی میں فاصلہ رکھنا، اور میل میلاپ کو حتی الوسع کم کرنا ہے۔

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثر ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ ساٹھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

متاثر ہونے والوں میں کئی ایک مشہور اور نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں جن کا تعلق سیاست سے لے کر کھیلوں کے میدانوں تک ہے، حتی کہ شعبہ طب سے بھی۔

کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والی چند ہائی پروفایل شخصیات
کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والی چند ہائی پروفایل شخصیات

ماریو ڈیز بلرٹ، رکن کانگریس

58 سالہ ماریو ڈیز بلرٹ فلوریڈا سے تعلق رکھتے ہیں اور امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ہیں۔

امریکہ میں کانگریس نے تصدیق کی ہے کہ 18 مارچ کو ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ماریو ڈیز اور ریاست یوٹا سے بین میک ایڈمز کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

ماریو ڈیئز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے گزشتہ اختتام ہفتہ اس وقت کورونا کی علامات محسوس کیں جب وہ ایوان نمائندگان میں کرونا وائرس ریلیف پیکیج کی منظوری کے لیے ووٹ دے کر آئے تھے۔ 14 مارچ کی شام انہیں بخار اور سر درد کی علامات ظاہر ہوئیں۔ فلوریڈا واپس جانے کی بجائے انہوں نے خود کو واشنگٹن میں اپنے اپارٹمنٹ کے اندر ہی محدود کر لیا تاکہ واپس گھر جا کر پہلے سے علیل اپنی اہلیہ کے لیے خطرہ نہ بن جائیں۔ پھر بدھ کے روز انہوں نے ٹویٹر پیغام میں کرونا وائرس سے متاثر ہونےکا اعلان کیا۔

بین میک ایڈمز، رکن کانگریس

بین میک ایڈمز کی عمر 45 سال ہے اور وہ ریاست یوٹا سے ایوان نمائندگان کے رکن ہیں۔

وہ کانگریس کی دوسرے رکن ہیں جو کرونا ٹیسٹ میں پازیٹو نکل آئے تھے۔ 15 مارچ کی صبح جب انہیں سردی محسوس ہونے لگی اور بخار کی علامات ظاہر ہوئی تو وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے سے قرنطینہ میں چلے گئے اور منگل کے روز ان میں کرونا پازیٹو کی تشخیص ہو گئی۔

سینیٹر رینڈ پال

سینٹر رینڈ پال امریکی سینیٹ کے رکن ہیں اور بذات خود فزیشن بھی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قریبی حلقوں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ سینٹر کے پھیپھڑے 2017 میں ان کو پیش آنے والے ایک حادثے میں پہلے سے ہی متاثر ہیں۔ رینڈ پال نے بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے کینٹکی میں عطیات جمع کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والے ایک عشائیہ میں شرکت کی تھی تھی اور انہیں بتایا گیا تھا کہ عشائیے میں دو افراد ایسے بھی تھے جو بعد میں کرونا پازیٹو نکل آئے تھے۔

کینیڈا کی خاتون اول صوفی بھی کرونا کا شکار

13 مارچ کو دنیا میں کرونا سے متعلق بریکنگ نیوز میں بتایا گیا کہ کینیڈا کی خاتون اول صوفی گریگوری کا ٹیسٹ، جو وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی شریک حیات ہیں، پازیٹو نکلا تو وہ چودہ دن کے لئے قرنطینہ میں چلی گئیں۔ اور سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی طبیعت سنبھل رہی ہے۔

سعید غنی

سعید غنی پاکستان کے صوبہ سندھ میں وزیر اطلاعات ہیں، سابق سینیٹر بھی اور سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رکن بھی ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے بھی خود اعلان کیا کہ ان میں کرونا پازیٹو کی تشخیص ہوئی ہے، اگرچہ انہیں بخار، نزلہ، زکام یا جسم میں درد جیسی کوئی علامت محسوس نہیں ہو رہی۔

یورپی راہنما جو کرونا کی لپیٹ میں آئے

برطانیہ کی وزیر صحت نادین ڈوریز، دائیں بازو کی جماعت واکس پارٹی کے سیکرٹری جنرل جیوئیر آرٹیگا اور فرانس کے وزیر ثقافت فرینکلن رجسٹر کرونا کی لپیٹ میں آنے والی اہم شخصیات ہیں۔

دو مارچ کو ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشاورتی کونسل میں شامل ایک رکن محمد میر محمد کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی عمر 71 سال تھی۔

قرنطینہ میں جانے والے لیڈر

سینٹر مٹ رامنی

امریکہ میں اراکین کانگریس کے اندر دو پازیٹو کیسز کے علاوہ ریپبلکن سینیٹر مٹ رامنی جیسے نمایاں سیاست دان احتیاطاً قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

ریاست یوٹاہ سے سینٹر مائک لی نے بھی اتوار کو اعلان کیا کہ وہ رینڈ پال میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد قرنطینہ میں جا رہے ہیں۔ دونوں سینیٹرز میں تاحال کرونا کی علامات موجود نہیں ہیں۔

فواد چوہدری ،وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی

پاکستان میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری یورپ اور امریکہ کے دورے کے بعد پاکستان واپس پہنچے ہیں اور سوشل میڈیا پر جاری ان کے بیان کے مطابق ان کا کرونا ٹیسٹ منفی رہا ہے لیکن وہ احتیاطاً خود کو قرنطینہ میں رکھے ہوئے ہیں اور گھر والوں سے بھی نہیں ملے ہیں۔

جرمن چانسلر اینگلا مرخیل

جرمن چانسلر اینگلا مرخیل بھی قرنطینہ میں چلی گئی ہیں کیونکہ ان کے اس ڈاکٹر کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو نکل آیا تھا جس نے جرمن رہنما کو جمعے کے روز نمونیا کی ویکسین لگائی تھی۔ اب وہ حکومت کے معاملات گھر سے سنبھالے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود بھی قرنطینہ میں

شاہ محمود قریشی نے بھی چین کا دورہ کرنے کے بعد خود کو رضاکارانہ طور پر قرنطینہ میں رکھا ہے۔ جب کہ صدر عارف علوی کے بارے میں بھی اطلاعات تھیں کہ چین سے واپسی کے بعد وہ کچھ وقت کے لئے قرنطینہ میں رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں کرونا وائرس

امریکہ کے نائب صدر مائیک پنس کے سٹاف کے ایک رکن میں بھی کرونا پازیٹو نکل آیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں کے مطابق مائیک پنس یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں، متاثرہ اسٹاف ممبر کے ساتھ گزشتہ کچھ دنوں سے براہ راست رابطے میں نہیں تھے۔ نائب صدر مائیک پینس اور ان کی اہلیہ کیرن پینس کا بھی ابھی کرونا ٹیسٹ کیا گیا ہے جو 21 مارچ کو نیگیٹو نکلا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی کرونا ٹیسٹ 14 مارچ کو نیگیٹو آیا تھا۔ ٹرمپ کو ٹیسٹ سے اس لئے گزارنا پڑا کیونکہ فلوریڈا کے تفریحی مقام مارآلاگو میں ان کا ایک ایسے عہدیدار سے رابطہ رہا جن میں کرونا کی تشخیص بعدازاں ہوئی تھی۔

ایتھلیٹس جو کرونا سے نہ بچ سکے

کرونا وائرس نے ایسے افراد کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے جو بظاہر بہت توانا اور صحت مند ہیں اور ایتھلیٹس کے طور پر جانے جاتے ہیں

ایکس ایف ایل کے ترجمان نے 14 مارچ کو بتایا کہ ان کے ایک اور ایتھلیٹ میں کرونا پازیٹو نکل آیا ہے۔ اس سے قبل یوٹاہ جیز پلیر روڈی گوبرٹ اور ڈونا وین مچل کے کرونا ٹیسٹ پازیٹو نکلے تھے۔

یو ایس اے ٹو ڈے کے مطابق دیگر جن ایتھلیٹس میں کرونا پازیٹو آیا ہے ان میں نیو آرلینز سینٹس کے کوچ شان پیٹن، باسٹن سیلٹک گارڈ کے مارک سمارٹ، ڈیٹرائٹ پریسٹن کے کرسچئین ووڈ، بروکلین میٹس کے کیون ڈیورانٹس، جاپان فٹ بال ایسوسی ایشن کے کوزوتشیما، آرسنل کے مینیجر مائیکل آرٹیٹا اور کئی دیگر نمایاں ایتھلیٹس اس فہرست میں شامل ہیں۔

ہائی پروفائل اموات

رئیل میڈرڈ کے سابق صدر لورینزو سینز 76 برس کی عمر میں کرونا کے سبب ہی موت سے دوچار ہوئے ہیں۔

کرونا کے سبب جو موت اب تک سب سے بڑی خبر بنی وہ چین کے شہر ووہان کے اس ڈاکٹر کی تھی جس نے سب سے پہلے وبا کے خطرے کی گھنٹیاں بجائی تھیں، لیکن چینی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ 34 سالہ ڈاکٹر وی لین ویانگ کی موت پر چینی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی نوجوان ڈاکٹر کی موت بھی گزشتہ روز کرونا سے ہی ہوئی ہے۔ 26 سالہ پاکستانی ڈاکٹر اسامہ کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد موت کی وادی میں اتر گئے۔ ڈاکٹر اسامہ کرونا سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG