رسائی کے لنکس

لاپتا سماجی کارکنوں کی جلد بازیابی کا مطالبہ


فائل فوٹو

پاکستانی قانون سازوں کے علاوہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے بھی ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان گمشدہ افراد کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں لاپتا ہونے والے پانچ سماجی کارکنوں کے معاملے پر نا صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی قانون سازوں کے علاوہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے بھی ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان گمشدہ افراد کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے جمعرات کو روزانہ کی بریفنگ کے دوران کہا کہ انہیں ان اطلاعات پر تشویش ہے کہ پاکستانی بلاگر اور سماجی کارکن لاپتا ہو گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے پاکستان کی وزارت داخلہ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا کہ اسلام آباد سے لاپتا ہونے والے ایک پروفیسر سلمان حیدر کی تلاش کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور مقامی یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر گزشتہ ہفتے اسلام آباد سے لاپتا ہو گئے تھے اور تاحال پولیس ان کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن نسرین جلیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

"ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسلام آباد میں بلاگر کو اٹھایا گیا ہے جو لبرل لوگ ہیں وہ لاپتا ہو گئے ہیں ۔۔۔ ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہمیں (ان واقعات پر) تشویش ہے۔"

دوسری طرف انسانی حقوق کے قومی ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے وزارت داخلہ پر زور دیا ہے کہ حالیہ دنوں میں لاپتا ہونے والے پانچ سماجی کارکنوں کا سراغ لگانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے مختلف شہروں سے لاپتا ہونے والے پانچ سماجی کارکنوں کا معاملہ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھی اٹھایا گیا اور سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے حکومت سے ان واقعات کی تحقیقات کرنے کے لیے کہا ہے۔

قبل ازیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ان کی جلد بازیابی کے لیے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG