رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ میں غیر حاضری، فلسطینی اتھارٹی کا بھارت سے گلہ


فائل فوٹو

فلسطین کی نیشنل اتھارٹی نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اسرائیل سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ کے دوران بھارت کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے کہا ہے کہ اس سے فلسطینیوں سمیت تمام لوگوں کے انسانی حقوق کے معاملے کو آگے بڑھانے کے اہم کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔

فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے وزیرِ خارجہ ریاض المالکی نے بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے نام 30 مئی کو مکتوب ارسال کیا تھا جس میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

ستائیس مئی کو ہونے والے اجلاس کے دوران منظورکردہ قرارداد میں اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں غزہ، مغربی کنارے اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

بھارت سمیت 14 ممالک ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔ قرارداد کے خلاف نو ووٹ پڑے جب کہ 24 ووٹوں کی حمایت سے اسے منظور کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاض المالکی نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ بھارت نے جواب دہی، امن اور انصاف کے اس اہم موڑ پر عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع گنوا دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں اس مکتوب کے ذریعے بھارت کی جانب سے اختیار کردہ مؤقف پر اپنی تشویش ظاہر کرتا ہوں۔

یہ مکتوب نئی دہلی میں واقع فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے سفارت خانے کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیا گیا ہے۔

بھارت نے سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور انسانی حقوق کونسل میں جاری اپنے بیانات میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے کے اپنے دیرینہ حوالے کو حذف کر دیا تھا۔

تاہم اس نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کو یقینی بنانے اور مذاکرات سے دو ریاستی حل کے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا تھا۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس تری مورتی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے حماس کی جانب سے راکٹ داغے جانے کی مخالفت کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ حماس کی کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے بہت زیادہ طاقت کا استعمال بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

لیکن بعد کے بیانات میں ’فلسطینی کاز کی غیر متزلزل حمایت‘ کا جملہ شامل نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامن نیتن یاہو نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جھڑپوں کے موقع پر ان 25 ممالک کا شکریہ ادا کیا تھا جنہوں نے ان کے بقول دہشت گرد حملوں کے دفاع میں اسرائیل کے تحفظ کے حق کی حمایت کی تھی۔ تاہم ان 25 ممالک میں بھارت کا نام شامل نہیں تھا۔

بھارت کا ریاض المالکی کے خط پر ردِعمل

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے ریاض المالکی کے خط پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ووٹنگ کے دوران بھارت کی غیر حاضری کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی وہ غیر حاضر رہ چکا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے جمعرات کو نیوز بریفنگ کے دوران اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطین نے ان تمام ملکوں کو جو ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے ایسا ہی خط لکھا ہے۔

ان کے بقول، "ہمارا یہ مؤقف نیا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں ہم نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔"

جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے وابستہ بین الاقوامی امور کے ماہر منظر امام نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اقوامِ متحدہ میں بھارت کی جانب سے فلسطین کی حمایت نہ کرنا افسوسناک ہے۔

ان کے بقول بھارت نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں فلسطین کی حمایت نہیں کی۔ اس نے اس کو چھوڑ دیا۔ حالاں کہ اس سے قبل نیتن یاہو بھارت کو چھوڑ چکے تھے۔ انہوں نے جن ملکوں کا شکریہ ادا کیا تھا ان میں بھارت کا نام نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت تو ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں فلسطینی کاز کو زبردست اہمیت حاصل رہی ہے۔ لیکن اب جو صورتِ حال ہے وہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا نہ کہ ووٹنگ سے غیر حاضر رہا جاتا۔ اسرائیل ایک طاقتور ملک ہے اور بھارت اب اس سے ہتھیار بھی خرید رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فلسطین کا ساتھ چھوڑ دے۔

منظر امام نے کہا کہ ایک وزیرِ خارجہ کا کسی معاملے پر دوسرے ملک کے اپنے ہم منصب کو خط لکھنا معمولی بات نہیں ہے۔ ریاض المالکی کی جانب سے بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے نام سخت لب و لہجے میں مکتوب لکھنا اور اسے ذرائع ابلاغ میں جاری کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت کے اس مؤقف پر فلسطین ناراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا فلسطینیوں کی حمایت نہ کرنا کمزور سفارت کاری ہے۔ جب کہ پوری دنیا میں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

بعض دیگر مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے فریقین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔

نریندر مودی بھارت کے پہلے وزیرِ اعظم ہیں جنہوں نے فلسطینی علاقوں اور اسرائیل دونوں کا دورہ کیا تھا۔ حالاں کہ بھارت پہلا غیر عرب ملک تھا جس نے فلسطینی لبریشن آرمی کو فلسطینی عوام کا واحد اور جائز نمائندہ ہونا سب سے پہلے تسلیم کیا تھا۔

ریاض المالکی کے مکتوب پر بھارت کی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG