رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینی صدر کی طرف سے امریکی سفیر کے لیے نازیبا الفاظ


محمود عباس راملہ میں فلسطینی حکام سے خطاب کر رہے ہیں۔

صدر محمود عباس نے الزام عائد کیا کہ کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈ مین مغربی کنارے پر قابض یہودی آباد کاروں کے حامی ہیں۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور فلسطین سے متعلق اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین امریکہ کے کسی امن منصوبے کو قبول نہیں کرے گا۔

پیر کو مغربی کنارے کے شہر راملہ میں فلسطین کی قیادت کے ایک اجلاس سے سخت غصے کے عالم میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینی صدر نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کو "کتے کا بچہ" کہہ دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈ مین مغربی کنارے پر قابض یہودی آباد کاروں کے حامی ہیں۔

صدر عباس نے کہا کہ ٹرمپ حکومت اسرائیل کی حامی ہے لہذا فلسطینی اس کی جانب سے پیش کردہ کسی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن اور اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے لیکن وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق فی الحال اس منصوبے کے اعلان کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

لیکن فلسطینی صدر کی جانب سے مجوزہ منصوبے کے اعلان سے قبل ہی اسے مسترد کیے جانے کے بعد اس منصوبے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

اپنے خطاب میں صدر عباس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے، امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے اور فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کےا دارے کی امداد میں کٹوتی کے اقدامات پر ٹرمپ حکومت پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا، "امریکی کہتے ہیں کہ ہم ان کے امن منصوبے کے اعلان کا انتظار کریں۔ ہم کس بات کا انتظار کریں؟ لوگ کہتے ہیں کہ تم واشنگٹن کیوں نہیں جاتے؟ وہ چاہتے ہیں کہ ہم واشنگٹن جائیں اور [ان کے منصوبے پر] دستخط کردیں۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے اور نہ انہیں یہ کرنے دیں گے۔"

اپنے خطاب میں صدر عباس نے غزہ کی پٹی میں سرگرم فلسطینی عسکری تنظیم حماس پر بھی کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس نے گزشتہ ہفتے غزہ کے دورے کے دوران فلسطینی وزیرِا عظم اور سکیورٹی چیف کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

گزشتہ ہفتے فلسطینی وزیرِاعظم کے غزہ کے دورے کے دوران ان کے قافلے کے نزدیک ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں ان کے قافلے میں شامل تمام لوگ محفوظ رہے تھے۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ اس بم دھماکے پر حماس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

امریکہ کا ردِ عمل

امریکی حکام نے صدر عباس کی امریکہ پر تنقید اور اسرائیل میں امریکی سفیر کو گالی دینے پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈ مین نے کہا ہے کہ فلسطینی صدر کی جانب سے انہیں "کتے کا بچہ" کہنا یہودی مخالف رویے کا اظہار ہوسکتا ہے۔

یروشلم میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرائیڈمین نے کہا کہ وہ اس بات کا فیصلہ لوگوں پر چھوڑتے ہیں کہ انہیں گالی دینا صدر عباس کا محض سیاسی بیان تھا یا یہ یہودی مخالف جذبات کا اظہار تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوارٹ نے صدر عباس کے بیان کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے کی صورتِ حال بہتر کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ترجمان نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنی توجہ فلسطینی عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے اور قیامِ امن کی جانب پیش رفت پر مرکوز کرنی چاہیے۔

صدر ٹرمپ کے مشیر برائے بین الاقوامی مذاکرات جیسن ڈی گرین بالٹ نےاپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ فلسطینی صدر کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کا انتخاب نفرت انگیز بیانات ہیں یا وہ اپنے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے اور انہیں امن اور خوش حالی دینے کے لیے عملی کام کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG