رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی کنارے میں جھڑپیں، فلسطینی نوجوان ہلاک


امدادی تنظیم 'ہلالِ احمر' کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں صرف گزشتہ دو روز کے دوران 450 سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں میں ایک فلسطینی نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق نوجوان کی شناخت 13 سالہ عبدالرحمن عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے جو مغربی کنارے کے قصبے بیت اللحم کےنزدیک واقع پناہ گزینوں کی ایک بستی کا رہائشی تھا۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے۔

اسرائیلی حکام نے واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے البتہ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تفصیلات معلوم کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ سیکڑوں فلسطینی نوجوانوں نے پیر کو بھی اسرائیلی فوجیوں پر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے مختلف علاقوں میں پتھراؤ کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلائے۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے کئی مقامات پر فائرنگ کی۔

امدادی تنظیم 'ہلالِ احمر' کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں صرف گزشتہ دو روز کے دوران 450 سے زائد فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حالیہ کشیدگی کا آغاز گزشتہ ماہ یروشلم میں واقع مسلمانوں کے دوسرے مقدس ترین مذہبی مقام مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی فوج اور عرب نمازیوں کے درمیان جھڑپوں سے ہوا تھا جو وقفے وقفے سے کئی روز تک جاری رہی تھیں۔

ہفتے کو ایک فلسطینی نوجوان نے یروشلم کے قدیم علاقے میں چاقو کے وار کرکے دو اسرائیلیوں کو ہلاک اور ایک خاتون اور بچے کو زخمی کردیا تھا۔ بعد ازاں حملہ آور بھی اسرائیلی پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔

واقعے کے بعد سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے دیگر حصوں میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی تھی اور عرب مظاہرین اور اسرائیلی فوج میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت نے یروشلم کے قدیم علاقے میں غیر متعلق فلسطینیوں کا داخلہ بند کردیا ہے جب کہ مسجدِ اقصیٰ میں بھی 50 سال سے کم عمر نمازیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو ملک کے سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں مشرقی یروشلم اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاروں کے تحفظ کے اقدامات پر غور کیا گیا تھا۔

اجلاس کے بعد ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے والے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا عمل تیز کرے گی جب کہ تشدد پر اکسانے والے فلسطینیوں کو قدیم یروشلم میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں کشیدگی میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔

فلسطینی صدر کے دفتر سے پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر عباس نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو ٹیلی فون کرکے انہیں مغربی کنارے کی صورتِ حال اورحالیہ کشیدگی کے تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG