رسائی کے لنکس

فلسطینی قیادت کونتن یاہوکےمؤقف میں نرمی کی توقع تھی: تجزیہ کار


فلسطینی قیادت کونتن یاہوکےمؤقف میں نرمی کی توقع تھی: تجزیہ کار

وزیر اعظم نتن یاہو نے صدر اوباما کے تجویز کردہ امن سمجھوتے کے لیے سنہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور علاقوں کے تبادلے پر اپنی رضامندی کا عندیہ نہیں دیا

فلسطینی قیادت کو امید تھی کہ شاید مسٹرنتن یاہو اپنے دورہٴ امریکہ کے دوران سرحدوں کے معاملات سمیت دیگر اہم امور پر اپنے مؤقف میں کچھ نرمی دکھائیں۔ لیکن، ایسا نہ ہوا۔

واشنگٹن میں اسرائیلی رہنما کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت امن کے لیے، بقول اُن کے، کچھ تکلیف دہ سمجھوتے کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم، اُنھوں نے صدر براک اوباما کے تجویز کردہ امن سمجھوتے کے لیے سنہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں اور علاقوں کے تبادلے پر اپنی رضامندی کا عندیہ نہیں دیا۔

بدھ کے روز اسرائیلی فوجی ریڈیو پر بات کرتے ہوئے ایک سینئر فلسطینی عہدے دار نبیل شاط نے اسرائیلی وزیر اعظم پر گذشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار امن کے عمل کو مزید خراب کرنے کا الزام عائد کیا۔

شاط نے کہا کہ گذشتہ روز مسٹر نتن یاہو نے اس تھوڑی سی امید کو بھی ختم کردیا ہے کہ امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا۔

اسرائیل میں رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر نتن یاہو کے دورہٴ امریکہ کے بعد اِن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کے روز شائع ہونے والے اخبار اس خبر سے بھرے پڑے تھے کہ دورہٴ امریکہ کے دوران کس والہانہ انداز سے کھڑے ہوکر اسرائیلی وزیر اعظم کا استقبال کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر نتن یاہو کی مقبولیت میں اضافے سے اُن کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی رائے معدوم ہوتی جارہی ہے۔

جہاں تک فلسطینیوں کا تعلق ہے اُن کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت کے لیے سمتبر میں اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے اپنے منصوبے پر پیش رفت کر رہے ہیں۔

اِس دوران سرگرم فلسطینی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ عدم تشدد پر منبی مزید احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں گے۔

XS
SM
MD
LG