رسائی کے لنکس

logo-print

پاناما لیکس: فریقین اب شواہد عدالت میں جمع کروائیں


پاکستان کے عدالت عظمٰی میں پیر کو پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی جب سماعت شروع ہوئی تو وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز نے اپنے اپنے جوابات داخل کروائے۔

جوابات میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے تینوں بچے اُن کے زیر کفالت نہیں ہیں اور اُن میں سے کوئی بھی کسی عوامی عہدے پر بھی فائر نہیں ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں ’نیلسن اور نیس کام‘ کی محض ٹرسٹی ہیں اور وہ اُن کمپنیوں سے کوئی مالی فائدہ نہیں لیتیں۔

وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز نے اپنے جواب میں کہا کہ گزشتہ 16 سال سے قانون کے مطابق بیرون ملک کام کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ 15 نومبر تک اس بارے شواہد سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں۔

حکومت کی طرف سے شواہد جمع کروانے کے لیے 15 روز کی مہلت مانگی گئی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد اس معاملے کو نمٹانا چاہتی ہے۔

سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود عمران خان نے بعد ازاں سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو میں الزام لگایا کہ وزیراعظم کے وکیل نے اس معاملے کو مزید تاخیر میں ڈالنے کی کوشش کی۔

’’میں اُمید یہ رکھتا ہوں کہ جو سپریم کورٹ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ہی جج فیصلہ کر دیں۔ یہ بہت ہی خوش آئند چیز ہے پاکستان کے لیے۔۔۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر جواب آ جائیں تو ہو سکتا ہے کہ کمیشن کی ضرورت بھی نا پڑے۔‘‘

وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ اب شواہد کا وقت آ گیا ہے اور اُن کے بقول تحریک انصاف اُن الزامات کے دستاویزی شواہد عدالت میں پیش کرے جو کہ وزیراعظم پر لگائے گئے۔

’’جو الزامات عمران خان صاحب نے لگائے ہم اُن کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ہمارا کیس پہلے دن سے مضبوط تھا اسی لیے وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو خود خط لکھا تھا۔‘‘

حکمران جماعت کے قانون سازوں کا موقف کہ اُن کے پاس تمام دستاویزی شواہد موجود ہیں جو آئندہ سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ میں پیش کر دیئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحریری یقین دہانی طلب کی تھی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مجوزہ کمیشن کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے۔

رواں سال اپریل میں پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق لگ بھگ چھ سو پاکستانی شہری ایسے ہیں جن کی ’آف شور کمپنیاں‘ ہیں، اور اُن میں وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کا نام بھی شامل تھا کہ اُنھوں نے بھی بیرون ملک اثاثے بنانے کے لیے ’آف شور‘ کمپنیاں قائم کی ہیں۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے اس معاملے پر وزیراعظم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان کی جماعت تحریک انصاف، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور ایک وکیل طارق اسد نے پاناما لیکس کےمعاملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور اُن کی درخواستوں پر اب اس معاملے کی سماعت ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG