رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس لاک ڈاؤن: پاپارازی فوٹوگرافرز کو فلمی ستاروں کی تلاش


لاک ڈاؤن کے دوران ہالی وڈ اسٹارز کی کسی بھی قسم کی تصاویر نہ آنے کے سبب 'ٹیبلائڈ میگزینز' بھی فکر مند ہیں۔ (فائل فوٹو)

کرونا وائرس کے سبب کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہالی وڈ کے پرستار فلمی ستاروں کی نجی تصاویر دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ جب کہ خفیہ تصاویر لینے والے 'پاپارازی فوٹو گرافرز' فلمی ستاروں کی تلاش میں ہیں۔ جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک ماہ پہلے نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے سبب نہ صرف نائٹ کلبز بند ہیں بلکہ وہ ریستوران اور سنیما گھر جو ہر وقت فوٹو گرافرز کے جھرمٹ میں ہوتے تھے۔ اُنہیں بھی تالے لگ چکے ہیں۔

ہالی وڈ فلموں کی ریڈ کارپیٹ تقاریب اور فلم پریمیئرز ملتوی ہونے کی وجہ سے اخبارات اور شوبز میگزینز فلمی ستاروں کی تصاویر کی تلاش میں ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث شوبز شخصیات نے خود کو گھروں تک محدود کر لیا ہے اس وجہ سے پاپارازی ان کی تصاویر نہیں لے پا رہے۔

یاد رہے کہ خفیہ فوٹو گرافی کرنے والوں کو پاپارازی کہا جاتا ہے۔ ان دنوں وہ فلمی ستاروں کی نجی مصروفیات کو فلم بند کرنے کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔

شوبز شخصیات کی کسی بھی قسم کی تصاویر نہ آنے کے سبب 'ٹیبلائڈ میگزینز' بھی فکر مند ہیں۔

معروف شخصیات کی تصاویر لینے والی ایجنسی 'بائیر گریفن' کے بانی رینڈی بائیر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کچھ اچھی نہیں۔ ان حالات میں کوئی بھی ایسی تصویر جس میں فلمی ستاروں کو دھوپ والے چشمے یا فیس ماسک پہنے دیکھا گیا ہو، تو وہ بھی کارآمد ہو گی۔

بائیر کا کہنا ہے کہ جب سے گھروں تک محدود رہنے کا کہا گیا ہے۔ اُن کی ایجنسی کی 95 فی صد پروڈکشن کم ہو گئی ہے۔

خفیہ طریقے سے تصاویر لینے والے فوٹوگرافر کو پاپارازی کہا جاتا ہے۔
خفیہ طریقے سے تصاویر لینے والے فوٹوگرافر کو پاپارازی کہا جاتا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا اُن کی ایجنسی 20 فوٹوگرافرز کے ساتھ ماہانہ 7000 تصاویر جاری کرتی تھی۔ جو کہ اب صرف 500 تصاویر تک آ گئی ہے۔

'اے ایف پی' کے مطابق معروف فلمی ستاروں کے گھروں کے باہر مستقل طور پر تعینات کیے گئے فوٹوگرافرز کو بائیر نے کہا ہے کہ وہ بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست جمع کرا دیں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث بے روزگار ہونے والے افراد حکومت سے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں۔

بائیر کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی صورتِ حال میں ناظرین فلمی ستاروں کی تصاویر تو دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن تصاویر آ ہی نہیں رہیں۔

امریکی ماڈل کریسی ٹیجن کا رواں ہفتے ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ان کے گھر کے باہر کچھ لوگ موجود ہیں جو اُن کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں لیکن وہ باہر نہیں نکل رہیں۔

دنیا بھر میں اخبارات، میگزینز اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس پر نشر کی جانے والی فلمی ستاروں کی تصاویر سامنے نہ آنے کے بعد پاپارازی کی ایسی تصاویر کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے جو وہ فلمی ستاروں کی خفیہ طور پر کھینچتے ہیں۔

'اے ایف پی' کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ‘ڈی لسٹ’ میں شامل اداکاروں کی تصاویر بھی شوبز اشاعتی اداروں میں چھاپی جا رہی ہیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاپارازیز کو بھی شدید جھٹکا لگا ہے۔ اخبارات، جرائد اور ٹیلی ویژن ادارے پاپارازیز کی جانب سے بھیجی گئی خالی سڑکوں کی ہی تصاویر شائع یا نشر کر رہے ہیں۔

فوٹو گرافر مارک کارلوف نے اپنے پوڈ کاسٹ کی حالیہ قسط میں یہ اعتراف کیا کہ اچھی تصاویر لینے پر ناظرین کی طرف سے واہ واہ تو کی جائے گی۔ لیکن پاپارازی درحقیقت ان دنوں شدید مشکلات میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG