رسائی کے لنکس

logo-print

قومی دفاع کے بارے میں حکومت و عسکری حکام کی پارلیمان کو بریفنگ


پاکستان کی پارلیمانی قیادت نے بدھ کو ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور حکمت عملی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، جنھیں حکومت و عسکری حکام کی جانب سے ’’سرحدی صورتحال اور جوابی کارروائی‘‘ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں پارلیمانی جماعتوں کو آگاہ کرنے کے لیے اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔ بند کمرے کے اجلاس میں اہم حکومتی وزرا اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ اعلیٰ عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق، اس بند کمرے کے اجلاس میں پارلیمانی رہنماؤں کو پاکستان کی حکمت عملی پر اعتماد میں لیا گیا اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ملک کے تینوں مسلح افواج کی مشترکہ حکمت عملی اور ایٹمی پروگرام کی نگرانی اور اس کے استعمال کے حوالے سے فیصلہ ساز فورم ہے جس کا اجلاس صبح وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

پاکستان کی پارلیمانی جماعتوں کا یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے کے لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔

اس بند کمرہ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی رہنماؤں کو بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر بریفنگ دی اور سفارتی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا، جبکہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل، آصف غفور نے ملکی دفاع کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں شرکا کو اعتماد میں لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG