رسائی کے لنکس

logo-print

صرف ایک بھارتی پائلٹ حراست میں ہے: پاکستان فوج


بھارتی فضایہ کے ونگ کمانڈر ابھے نندن جنہیں پاکستانی فوج نے حراست میں لیا ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارتی فضائیہ کے ان دو جنگی طیاروں کو مار گرایا ہے جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ بدھ کی صبح ٹوئٹر پر کیا۔

اپنے ٹوئٹ میں فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایک طیارے کا ملبہ کشمیر کے پاکستانی حصے جب کہ دوسرے کا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گرا ہے۔

بعد ازاں راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے ایک بھارتی پائلٹ کو بھی حراست میں لیا ہے جن سے ان کے بقول مہذب قوم کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے۔

​جب کہ اس سے قبل خبروں میں دو پائلٹ پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

فوجی ترجمان نے بتایا کہ طیارے گرانے سے قبل پاکستانی طیاروں نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کے چھ اہداف کو نشانہ بنایا تھا جس کی ویڈیو ان کے بقول میڈیا کو جاری کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی اور وہ خطے کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتا۔ اسی لیے ان کے بقول پاکستان نے یقینی بنایا کہ اس کی اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہ ہو۔

جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کی اس کارروائی کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ وہ جوابی کارروائی کرسکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت کی قیادت پر زور دیا کہ وہ مل بیٹھ کر تنازعات حل کرنے کی پاکستان کی پیشکش کو قبول کرلے۔

پاکستانی ٹی وی چینلز نے گرفتار ہونے والے مبینہ بھارتی پائلٹ کی ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جس میں انہیں اپنا نام ونگ کمانڈر ابھے نندن اور سروس نمبر 27981 بتاتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

ایک بھارتی طیارہ گرنے کی تصدیق

بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیشِ محمد کے کیمپ پر بھارت کے حملے کے ردِ عمل میں پاکستان کی فضائیہ نے بدھ کی صبح بھارت کی فوجی تنصیبات کے خلاف کارروائی کی جسے ناکام بنادیا گیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک نیوز کانفرنس میں ایک بیان پڑھ کر سنایا اور بھارت اور پاکستان کی فضائیہ کے درمیان کارروائی کی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی کل کی کارروائی کے جواب میں پاکستان نے آج صبح کارروائی کی اور اس کی فضائیہ نے بھارتی سرحد کے اندر فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری تیاری اور مستعدی کی وجہ سے پاکستانی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام کا وہ مقام جہاں بھارتی طیارہ گر کر تباہ ہوا۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام کا وہ مقام جہاں بھارتی طیارہ گر کر تباہ ہوا۔

بیان کے مطابق، پاکستانی طیاروں کی موجودگی کی اطلاع پر بھارت کی ایئر فورس نے فوری کارروائی کی جس کے دوران بھارت کا ایک مِگ 21 طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارے کا پائلٹ لاپتا ہے اور پاکستان کے اس دعوے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ پائلٹ اس کی تحویل میں ہے۔

اس سے قبل بھارتی فوجی ذرائع نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ کشمیر کے ضلع بڈگام میں گرنے والا طیارہ تیکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا۔

بھارتی ٹی وی چینلز نے طیارے کے ملبے کی ویڈیو فوٹیج بھی نشر کی ہیں جس میں آگ لگی ہوئی ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام سے وائس آف امریکہ کے نمائندے زبیر ڈار نے بتایا ہے کہ بھارتی فوج کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ چکی ہے اور طیارے کے ملبے میں لگی آگ بجھادی گئی ہے۔

سرینگر سے وائس آف امریکہ کے نمائندے یوسف جمیل کے مطابق بڈگام میں طیارہ گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں طیارے کے دو پائلٹ اور تین مقامی افراد شامل ہیں۔

پاکستانی ایف-16 طیارہ گرانے کا دعویٰ

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بھارتی طیاروں نے پاکستان کا ایک طیارہ بھی مار گرایا ہے جو پاکستان ہی کی حدود میں گرا ہے۔

اس سے قبل بھارتی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والا پاکستان کا ایک ایف-16 طیارہ مار گرایا ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت سے وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم نے بتایا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ دعویٰ کر رہے ہیں پاکستانی طیارہ بھارتی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے کے بعد نوشہرہ سیکٹر کی وادی لام میں پاکستان کی حدود کے تین کلومیٹر اندر گر کر تباہ ہوا۔

لیکن پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھارتی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔

بدھ کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران جنرل آصف غفور نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بدھ کی پوری کارروائی میں کوئی ایف-16 طیارہ استعمال ہی نہیں کیا۔

'بھارت سے بدلہ نہیں لیا'

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی یہ کارروائی بھارت کی معاندانہ کارروائیوں کا جواب نہیں ہے۔

دفترِ خارجہ سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اسی لیے یہ کارروائی خبردار کرکے اور دن کی روشنی میں کی کیوں کہ اس کا واحد مقصد پاکستان کی جانب سے اپنے دفاع کے حق، عزم اور صلاحیت کا اظہار کرنا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کشیدگی بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے مجبور کیا گیا تو وہ اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

دفترِ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی طیاروں کے خلاف کارروائی اپنی فضائی حدود سے کی جس میں عام انسانی جانوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا گیا۔

دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ شواہد شیئر کرنے کے بجائے دہشت گردوں کے خود ساختہ ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا تو پاکستان کے پاس بھی ان عناصر کو نشانہ بنانے کا جوابی حق ہے جو بھارت کی آشیرواد سے پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔

لیکن بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس راستے پر نہیں جانا چاہتا اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت امن کو موقع دے اور ایک بردبار جمہوریہ ہونے کے ثبوت دیتے ہوئے تنازعات کو حل کرے۔

پاکستانی ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن معطل

پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے دعوے کے بعد ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں واقع تمام ہوائی اڈوں پر کمرشل آپریشن معطل کر دیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، پشاور، سیالکوٹ، لاہور اور ملتان کے ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن معطل کردیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد، پشاور، سیالکوٹ، لاہور اور ملتان کے ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن معطل کردیے گئے ہیں۔

مختلف شہروں سے وائس آف امریکہ کے نمائندوں نے بتایا ہے کہ ہوائی اڈوں سے اندرون و بیرونِ ملک پروازوں کی روانگی روک دی گئی ہے۔

جبکہ اب کراچی سے وائس آف امریکہ کے نمائندے محمد ثاقب نے یہ بتایا ہے کہ کراچی ائرپورٹ پر پروازوں کو جزوی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے روالپنڈی میں صحافیوں کو بتایا کہ فلائٹ آپریشن کشیدہ صورتِ حال کے پیشِ نظر معطل کیا گیا ہے۔

بھارتی کشمیر سے ہمارے نمائندے یوسف جمیل کے مطابق بھارت کی حکومت نے بھی سری نگر، جموں اور لیہہ کے علاقوں کی فضائی حدود بند کردی ہے اور تمام کمرشل پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔

جب کہ نئی دہلی سے سہیل انجم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل شمالی ہند کے کم از کم دس ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد انھیں کھول دیا گیا۔

سشما سوراج کا دورہ چین اور پلوامہ حملہ

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے چین کے مقام اوژین میں منعقد ہونے والے روس، چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دہشت گردی کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ اس سے پوری دنیا کو خطرہ ہے۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف ایک مربوط عالمی کوشش کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک میکینزم کی ضرورت ہے۔

سشما نے پلوامہ حملے کا معاملہ اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ باہمی مذاکرات میں اٹھایا۔

دہلی میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی

پاکستانی کارروائی کے بعد پورے دن نئی دہلی میں سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلیٰ عہدے دراوں کے ساتھ الگ الگ میٹنگ کی اور ملک میں سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا۔

بی ایس ایف کو بھارت پاک سرحد پر الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG