رسائی کے لنکس

آئی بی کا مبینہ خط، ارکانِ پارلیمان کی وزیرِ اعظم سے ملاقات


فائل فوٹو

ارکانِ پارلیمان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے الیکشن کمیشن، وزارت ِخارجہ اور داخلہ کو خط لکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت ان تینوں اداروں پر تحریری طور پر واضح کرے کہ یہ خط جعلی ہے۔

کالعدم تنظیموں سے رابطوں سے متعلق تحقیقاتی ادارے 'انٹیلی جنس بیورو' (آئی بی) کے منظرِ عام پر آنے والے مبینہ خط میں مذکور ارکانِ پارلیمان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے۔

ارکانِ پارلیمان کے وفد نے جمعے کو وزیراعظم سے ملاقات میں خط کے مندرجات پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے سیاسی مخالفین اس خط کی بنیاد پر ان کے خلاف سازش کرسکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل نے انٹیلی جنس بیورو سے منسوب ایک خط سامنے لانے کا دعویٰ کیا تھا جس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے بعض ارکانِ پارلیمان کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا انکشاف کیا گیا تھا اور مبینہ طور پر وزیراعظم کی طرف سے 'آئی بی' کو ہدایت کی گئی تھی کہ ان ارکانِ اسمبلی کی نگرانی کی جائے۔

مذکورہ خط کے خلاف جمعرات کو ایک وفاقی وزیر سمیت بعض حکومتی ارکان نے قومی اسمبلی سے بائیکاٹ بھی کیا تھا۔

جمعے کو ارکانِ پارلیمان کے وفد کی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، وزیر قانون زاہد حامد اور انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔

ملاقات میں آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سطان نے مبینہ خط سے متعلق شرکا کو بریفنگ دی اور بتایا کہ ارکانِ پارلیمان سے متعلق منظرِ عام پر آنے والے خط کا ان کے ادارے سے کوئی تعلق نہیں۔

ملاقات میں ارکانِ پارلیمان کا موقف تھا کہ مبینہ خط کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور ان کے مخالفین اس خط کی بنیاد پر انہیں نشانہ بناسکتے ہیں۔

ارکانِ پارلیمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس خط کی بنیاد پر الیکشن کمیشن میں ان کے خلاف درخواستیں دائر ہوں گی اور اسی خط کی بنیاد پرانہیں جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

وفد کے ارکان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تین متاثرہ ارکانِ پارلیمان کو مختلف ممالک کے سفارت خانوں نے اس مبینہ خط کی بنیاد پر ویزے دینے سے انکار کردیا ہے۔

ارکانِ پارلیمان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے الیکشن کمیشن، وزارت ِخارجہ اور داخلہ کو خط لکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت ان تینوں اداروں پر تحریری طور پر واضح کرے کہ یہ خط جعلی ہے۔

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے نے 'آئی بی' کے خلاف پارلیمان میں تحریکِ استحقاق لانے کی تجویز بھی دی جو ارکان نے یہ کہہ کر مستر کردی کہ وہ اس معاملے کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے۔

نجی چینل پر نشر ہونے والے اس پروگرام پر انٹیلی جنس بیورو کی طرف سے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے ریگولیٹری ادارے 'پیمرا' کو بھی ایک درخواست دی گئی ہے جس پر گزشتہ روز 'پیمرا' کی کونسل آف کمپلینٹس میں سماعت ہوئی تھی۔

سماعت کےد وران پروگرام کے میزبان نے خط کی صداقت پر اصرار کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مذکورہ خط کے معاملے پر پروگرام کے میزبان کی درخواست پر نجی چینل اور میزبان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے خلاف حکمِ امتناع بھی جاری کردیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG