رسائی کے لنکس

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آئی ہے: قانون ساز


دورے پر آئے ہوئے خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کے وفد کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں انسانی اسمگلنگ پر بنائے گئے قوانین کے مطالعے کیلئے آئے ہیں، تاکہ پاکستان میں بھی اس طرز کے جرائم کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جا سکے

امریکی دفترِ خارجہ کی دعوت پر آئے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کی انسانی حقوق سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چھہ رکنی وفد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے صورتحال میں بہتری آئی ہے، مثال کے طور پر، ملک میں ہندو خواتین کے ساتھ زبردستی شادی کے لیے تبدیلی مذہب اور خواتین اور بچوں کے حقوق کے بارے میں قانون سازی کی گئی ہے۔

وفد کا کہنا تھا کہ وہ یہاں امریکہ میں انسانی اسمگلنگ پر بنائے گئے قوانین کے مطالعے کیلئے آئے ہیں، تاکہ پاکستان میں بھی اس طرز کے جرائم کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔

پیر کی شام یہاں ورجینیا میں پاکستانی امریکیوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین بابر نواز خان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلنگ ایک عالمی مسئلہ ہے، جس سے پاکستان بھی دوچار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں 50 امریکی ریاستوں میں انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے نافذالعمل قوانین کا مطالعہ کریں گے، تاکہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون متعارف کرایا جائے۔

وفد میں شامل مسلم لیگ نواز کی خواتین رہنماؤں زہرا فاطمی، فرحانہ قمر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ ثوبیہ نے بھی ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے، اور تعلیم اور صحت سے متعلق سرکاری اور جماعتی ترجیحات پر بات کی۔

بعدازاں، ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بابر نواز خان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گردوں کی خرید و فروخت کے حوالے سے مؤثر قانون سازی کی ہے، اور اب انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے بھی ایسا ہی ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی بچیوں کو اسمگل کرکے اُنہیں زبردستی جسم فروشی کی راہ پر لگا دیا جاتا ہے، اور پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں بھی ، بقول انکے، انسانی اسمگلنگ کا عنصر موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’یہ اسمگلنگ افغانستان سے ہوئی تھی‘‘۔

توہین رسالت سے متعلق قانون پر مذہبی اقلیتوں اور حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکنوں کے تحفظات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ باب، بقول اُن کے، ’’بہت پہلے ہی بند ہو چکا ہے‘‘؛ اور اب ان کے نزدیک، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، اس میں کوئی تبدیلی ہونا نا ممکن ہے۔‘‘

مذہبی اقلیتوں کی شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین کو جبراً مسلمان بنانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے حال ہی میں ہندو میرج ایکٹ کو سرکاری بل کے طور منظور کیا ہے، جسے ایک ہندو رکن اسمبلی نے ہندو برادری سے مشاورت کے بعد، ترتیب دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’کرسچن میرج ایکٹ‘ کا مسئلہ بھی ان کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ غیر شادی شدہ اور شادی شدہ مسیحی خواتین کو اغوا کرکے جبراً مسلمان کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ بابر نواز خان کا کہنا تھا کہ انکی کمیٹی نے یہ معاملہ مسیحی ارکانِ اسمبلی کے حوالے کیا ہے، اور پادری صاحبان سےبھی کہا گیا ہے کہ وہ آ کر اس پر اپنا مؤقف دیں تاکہ اس سلسلے میں ہونے والی کوئی بھی قانون سازی مسیحی برادری کی مشاورت ہی سے ہو۔

تاہم، مذہبی اقلیتوں اور حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکنوں کو اقلیتوں کے بنیادی کے حوالے سے اب بھی بہت سے تحفظات بتائے جاتے ہیں، اور اُن کا کہنا ہے کہ متعدد عملی اقدامات کی اب بھی ضرورت ہے، تاکہ اِنہیں تحفظ کا بھرپور احساس دلایا جا سکے اور معاشرے میں وہ اپنا کردار بلا امتیاز ادا کر سکیں۔

حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے راہنما بابر نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کی سمت درست ہے اور ملک میں معیشت ترقی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بدولت، جلد ہی پاکستان کی معیشت دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گی۔

بابر نواز خان نے بتایا کہ چین پاکستان میں زبردست سرمایہ کاری کر رہا ہے، اور دنیا کے دیگر ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG