رسائی کے لنکس

logo-print

پشتو فلمیں مسائل اور الزامات کے باوجود کامیاب


بحالی کے سبب جہاں فلموں کی تیاری اور ان کی پے در پے کامیابی کا سلسلہ آگے بڑھا ہے وہیں علاقائی فلم انڈسٹری میں بھی زندگی کی لہر دوڑنے لگی ہے۔

پاکستان میں عام آدمی کے لیے تفریح کے مواقع بہت کم ہیں۔ فلمیں تفریح کا سب سے سستا اور سہل ذریعہ شمار ہوتی ہیں لیکن فلم انڈسٹری کی تباہ حالی کے سبب تفریح کا یہ ذریعہ بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔

ایسے میں کچھ امید پرستوں نے پاکستانی سنیما کی بحالی کی کوششیں کیں جو اگرچہ اب بھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کے سبب سنیما کے روشن مستقبل کی امیدیں ضرور پیدا ہوئی ہیں۔

بحالی کے سبب جہاں فلموں کی تیاری اور ان کی پے در پے کامیابی کا سلسلہ آگے بڑھا ہے وہیں علاقائی فلم انڈسٹری میں بھی زندگی کی لہر دوڑنے لگی ہے۔

اس کی تازہ مثال گزشہ ہفتے عیدالفطر کے موقع پر 'ضدی اور بدمعاش'، 'کاشر خان لوفر دے'، 'نمگڑے ارمان'، 'زندان' اور 'پیدا گیر' نامی پانچ پشتو فلموں کی ریلیز ہے۔

ان پانچوں فلموں نے عید کی چار چھٹیوں میں پشاور کے سنیما گھروں میں کامیابی کے نئے ریکارڈ بنائے اور بہت اچھا بزنس کیا۔

یہ فلمیں پشاور کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں اور کراچی میں بھی ریلیز ہوئیں۔

کراچی کے مسرت اور نشیمن سنیما میں ان فلموں نے کسی حد تک ’کھڑکی توڑ‘ رش لیا۔

پشتو فلم انڈسٹری سے وابستہ شخصیات کا مطالبہ رہا ہے کہ علاقائی اور خاص کر پشتو فلم انڈسٹری کو حکومت سہارا دے تو اس سے معیشت اور انڈسٹری دونوں پر مثبت اثرات پڑیں گے۔

ان مطالبات میں انڈسٹری کو درپیش بہت سے مسائل بشمول سنیما ہالز میں منشیات کا استعمال بند کرانا، ٹیکس کی مد میں سنیما مالکان کو چھوٹ دینا اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی جیسے مسائل کے حل کے مطالبات سرِ فہرست ہیں۔

دوسری جانب سنیما انڈسٹری سے جڑے افراد کو بھی پشتو فلموں سے وابستہ منفی تاثرات کو غلط ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان الزامات میں بولڈ مناظر، خواتین کا فلم میں کردار نہ ہونے کے برابر اور صرف ڈانسنگ گرل کے طور پر خواتین کو شامل کرنا سرِ فہرست ہیں۔

یہ وہ تمام مسائل ہیں جن کی وجہ سے عام لوگ اور خاص کر فیملیز پتو فلمیں دیکھنے سے گریز کرتی ہیں۔

پشتو فلموں کے اداکار اور پروڈیوسر شاہد خان فلم انڈسٹری کو درپیش ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں، "فلم انڈسٹری کو پشتو اداکاراؤں کی قلت کا سامنا ہے۔ پروڈیوسرز کو تمام تک مالی مسائل کے باوجود لاہور سے اسٹیج اداکاراؤں کو پشاور لانا اور ٹہرانا پڑتا ہے جس کا اثر براہِ راست فلم کے بجٹ پر پڑتا ہے۔ بعض اوقات فنکاروں کو لانے، لے جانے اور ٹہرانے پر اتنی زیادہ رقم خرچ ہوجاتی ہےکہ فلم کو درمیان میں ہی روکنا پڑجاتا ہے۔"

شاہد خان کے بقول انڈسٹری کے حالات واقعی خراب ہیں لیکن ان مشکل حالات کے باوجود ان جیسے فلم ساز علاقائی فلم انڈسٹری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اگر حکومت ان کی مدد کرے تو صورتِ حال بہتر ہوسکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG