رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: طالبات کو کھانا پکانے کا شوق۔۔’اسٹار‘ بنا سکتا ہے


ہزاروں طالبات کو قسمت آزمائی کا موقع دیا گیا اور ان میں سے 100خوش نصیب طالبات کو ’نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کے اصل مقابلے کے لئے چنا گیا۔ ان میں سے کسی ایک خوش نصیب کو ہی 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' بننے کا موقع ملے گا

پرانے وقتوں کے بزرگ ایک فقرہ بولا کرتے تھے 'لڑکیوں کا نوکری سے بھلا کیا کام؟ انہوں نے تو چولہا ہی پھونکنا ہے۔'

لیکن جناب، اب ’چولہا پھونکنا‘ بھی آسان نہیں رہا، بلکہ ایک ’آرٹ‘، ایک ’کلا‘ یا ایک ’فن‘ بن گیا ہے۔ آرٹ بھی وہ جس میں روز روز نئے چیلنج درپیش ہوتے ہیں، دوسروں سے سخت مقابلہ ہوتا ہے اور تب کہیں جاکر ’اسٹار‘ بناجاتا ہے۔ ۔۔۔پھر جب سے ’ہوم اکنامکس‘ ایڈوانس ہوئی ہے اور کوکنگ چینلز عام ہوئے ہیں اس میں ہر روز ایک نئی جدت آرہی ہے۔

کوکنگ چینلز میں ’ہم‘ ٹی وی کے’مصالحہ‘ کی بات کریں تو وہ دوسروں سے ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ ابھی تک آپ نے اسٹوڈیو میں ہی مختلف لوگوں کو ’ماسٹر شیفس‘ بنتے دیکھا ہوگا۔ لیکن، ’مصالحہ‘ نے پچھلے دنوں اسٹوڈیو سے باہر آکر ایسے نوجوانوں خاص کر طالبات کی تلاش کا فیصلہ کیا جنہیں کھانا پکانے سے دلچسپی ہو۔

اس تلاش کو 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کا نام دیا گیا۔ اس کے ذریعے شہر کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والی طالبات کے درمیان کھانا پکانے کے مقابلے ہوئے۔ یہ طالبات مستقبل میں کوکنگ کو پیشہ بنانے اور اپنا مستقبل سنوارنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

چینل انتظامیہ کے ایک عہدیدار منہاس صغیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کو تمام تعلیمی اداروں میں خاصی پذیرائی ملی۔ ہر طرف اس کے چرچے سنائی دیئے۔ ہزاروں طالبات نے ٹیم مصالحہ اور ججوں کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا۔ حتیٰ کہ پرجوش طالبات سخت دھوپ ‘گرمی اور امتحانی تاریخیں قریب ہونے کے باوجود پورا پورا دن مصالحہ کی ٹیم کے ہمراہ موجود رہیں۔ ہر اسٹوڈنٹ کی یہی خواہش تھی کہ وہ 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کا حصہ بنے۔'

منہاس صغیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں طالبات کو قسمت آزمائی کا موقع دیا گیا اوران میں سے 100خوش نصیب طالبات کو ’نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کے اصل مقابلے کے لئے چنا گیا۔ ان میں سے کسی ایک خو ش نصیب کو ہی 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' بننے کا موقع ملے گا ‘وہ بھی سخت مقابلے اور امتحان سے گزرنے کے بعد۔'

'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کے تین ججز ہوں گے یعنی شیف زبیدہ طارق، طاہر چوہدری اور زارنک سدھوا۔ مقابلے کے لئے شہر کے 12مختلف تعلیمی ادارے منتخب کئے گئے ہیں۔ ان میں آئی اوبی ایم، بحریہ یونیورسٹی، سینٹ جوزف گرلز کالج، اپوا گورنمنٹ گرلز کالج، گزری گرلز کالج، خورشید گرلز کالج، خاتون پاکستان، انڈس یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ، جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور جناح یونیورسٹی برائے طالبات۔

منہاس صغیر کے مطابق 'سیمی فائنل میں کڑے مقابلے سے گزرنے کے بعد صرف خوش نصیب تین طالبات گرینڈ فنالے میں پہنچیں گی'۔ لیکن، اس مرحلے تک پہنچنا اتنا آسان نہیں ہوگا‘ جیتنے والی طالبہ کو ایک طرف 99دیگر طالبات سے مقابلہ کرنا ہوگا تو دوسری جانب انہیں ججوں کی جانب سے دیئے گئے امتحان میں کامیابی کے لئے اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا ۔ یہ کھانا پکانے میں مہارت سے لے کر اسے پیش کرنے کے ہنر تک۔۔ہر پہلو سے چیلنجنگ ہوگا۔

جیتنے والی طالبہ ججزکے ہاتھوں 'نیکسٹ مصالحہ اسٹار' کا تاج پہن کر تاریخ میں اپنا نام رقم کرسکے گی، جبکہ ناظرین کو ہر قسط میں تفریح کا مکمل سامان‘ معلومات اور کھانا پکانے سے متعلق نئے سے نئے اور دلچسپ چیلنجز دیکھنے کو ملیں گے۔

XS
SM
MD
LG