رسائی کے لنکس

logo-print

پٹھان کوٹ حملے سے پاک بھارت مذاکراتی عمل متاثر ہوا: نواز شریف


پاکستان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے رابطے ہیں اور خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے لیے نئی تاریخوں کے تعین پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ میں دہشت گردوں کے حملے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ مذاکراتی عمل کو دھچکا لگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی سرزمین اس حملے کے لیے استعمال ہوئی تو اس کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے ہفتہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ دسمبر میں بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج اور اُن کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان سے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت ہو رہی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ حملے کے سلسلے میں کی جانے والی تفتیش کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔

’’معاملات تو بڑے اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے پھر ایسا واقعہ ہو گیا جس کی وجہ سے ایک دھچکا لگا ہے۔ اب اس واقعہ کی تفتیش ہو رہی ہے میرے خیال میں بہت جلد تفتیش کے نتائج سامنے آئیں گے اور یقیناً ہمارا فرض بنتا ہے اگر کوئی ایسی حرکت ہوئی ہے جس کا تعلق پاکستان کی سر زمین سے ہے تو اس کی تہہ تک جایا جائے۔‘‘

رواں ماہ پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ حملہ پاکستان میں موجود کالعدم شدت پسند تنظیم جیش محمد سے وابستہ شدت پسندوں نے کیا۔

اس ضمن میں بھارت نے پاکستان کو کچھ شواہد بھی فراہم کیے جس کی بنیاد پر ابتدائی تحقیقات کر کے پاکستان نے جیش محمد کے متعدد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار اور اس تنظیم کے کچھ دفاتر کو سیل کر دیا تھا۔

پاکستانی حکام اس بات کی بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

کئی سالوں کے تعطل کے بعد دسمبر میں پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ جامع مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا اور رواں ماہ کے وسط میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان ملاقات طے تھی لیکن پٹھان کوٹ میں حملے کے بعد بات چیت کے اس دور کو ملتوی کر دیا گیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے ایک دوسرے سے رابطے ہیں اور خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات کے لیے نئی تاریخوں کے تعین پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG