رسائی کے لنکس

امن مذاكرات کی تازہ پیش کش پر طالبان کی خاموشی مثبت اشارہ


فائل فوٹو

پاکستانی فوجی عہدے دار نے بتایا کہ پاکستان کے فوجی اور سیکیورٹی ادارے بشمول آئی ایس آئی، طالبان کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ’ ہم پورے خلوص کے ساتھ کوشش کررہے ہیں اور ہم یہ زور دے رہے ہیں کہ ان کا اتحادی حقانی نیٹ ورک بھی افغان مفاہمتی عمل میں شامل ہو جائے۔

کابل کی حکومت کی جانب سے افغان طالبان کو غیر مشروط امن مذاكرات اور ان کی سیاسی حیثیت تسلیم کیے جانے کی پیش کش کے بعد عسکریت پسند گروپ کی خاموشی کو امریکہ اور پاکستان میں امید کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج کے عہدے داروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے شورش پسندوں کو مذاكرات کی میز پر لانے کی تازہ کوشش کے بعد ان کے طرز عمل میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔

فوج کے ایک سینیر عہدے دار نے، جنہیں صورت حال سے براہ راست آگاہی ہے، کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاكرات سے متعلق طالبان کا کھلا خط پاکستان کی جانب سے طالبان پر دباؤ بڑھنے کی تازہ کوشش کا نتیجہ تھا۔

پاکستان اس معاملے کے ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر افغان جنگ کو اختتام پر پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستانی فوجی عہدے دار نے یہ باتیں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگاروں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو میں کیں۔

عہدے دار کا کہنا تھا کہ امن کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے اسلام آباد کے کابل اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔

پاکستانی فوجی عہدے دار نے بتایا کہ پاکستان کے فوجی اور سیکیورٹی ادارے بشمول آئی ایس آئی، طالبان کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ’ ہم پورے خلوص کے ساتھ کوشش کررہے ہیں اور ہم یہ زور دے رہے ہیں کہ ان کا اتحادی حقانی نیٹ ورک بھی افغان مفاہمتی عمل میں شامل ہو جائے۔

تاہم فوجی عہدے دار کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوری نتائج کی توقع نہیں رکھی جا سکتی اور یہ معاملہ ایک رات میں حل نہیں ہوگا کیونکہ عشروں کی دشمنیوں نے افغانستان میں صورت حال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔

طالبان کے اندر کچھ ایسے گروپ موجود ہیں جنہوں نے روس کے ساتھ اپنے رابطے قائم کر لیے ہیں۔ جب کہ کچھ کے تعلقات ایران کے ساتھ قائم ہو چکے ہیں۔ اور کچھ طالبان گروپ اب بھی پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اپنی سرزمین پر سے عسکریت پسندوں کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے ہیں۔ لیکن یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں اور عسکریت پسند ان کا بہروپ ڈھال کر اور ان کی آڑ لے پناہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ افغان پناہ گزینوں کے خلاف فوجی کارروائی کے انتہائی منفی نتائج نکل سکتے ہیں اور اس کا رد عمل پرتشدد واقعات کی ایک لہر کی شکل میں برآمد ہو سکتا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذیبح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کی جانب سے متعدد بار پوچھے جانے کے بعد بتایا کہ فی الحال میں صدر اشرف غنی کی پیش کش پر طالبان کے موقف پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ابھی تک مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس سے پہلے طالبان کابل کی جانب سے امن مذاكرات کی پیش کش یہ کہہ کر مسترد کرتے رہے ہیں کہ وہ صرف اس کے بعد ہی افغان مذاكرات میں شریک ہوں گے جب تمام غیر ملکی فورسز ملک سے نکل جائیں گی۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کے کمانڈر جنرل نکولسن نے بدھ کے روز کہا کہ انہیں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ طالبان صدر اشرف غنی کی تازہ پیش کش کو، جسے بین الاقوامی حمایت حاصل ہے، یکسر مسترد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس پیش کش کے حوالے سے بہت کچھ ہو رہا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ طالبان اس پر غور کر رہے ہیں۔ ہم نے اس کے خلاف کھلے عام رد عمل نہیں دیکھا جو ایک دلچسپ بات ہے۔

جنرل نکولسن نے شورش پسندوں پر سفارتی اور جنگی میدان میں دباؤ بڑھانے کا ذکر کرتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ مختلف سطحوں پر سنجیدہ نوعیت کے مذاكرات اور اشتراک کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق کچھ تو امریکی پالیسی کے دباؤ سے ہے اور کچھ اس دباؤ سے ہے جو امریکہ پاکستان پر ڈال رہا ہے اور اب اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

پاکستانی عہدے داروں نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حکومتی اور فوجی سطح پر بات چیت کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کا موقف سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔

امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے رابطوں میں تیزی آئی ہے تاکہ ایک دوسرے کے موقف کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ حال ہی میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ واشنگٹن کا دورہ کیا تھا اور حالیہ عرصے میں کئی امریکی عہدے دار بھی اسلام آباد میں پاکستانی عہدے داروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے عہدے داروں نے ان ملاقاتوں کے بارے میں اپنے ہونٹ سختی سے بند رکھے ہوئے ہیں لیکن ذاتی حیثیت میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ جس کے جواب میں اسلام آباد نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں از سر شروع کر دی ہیں ۔

دوسری جانب واشنگٹن بھی پاکستان کے کچھ تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا اظہار کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ کے سر کی قیمت مقرر کیے جانے اور افغان سرحد کے قریب گروپ کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں سے ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG