رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے: نینسی پیلوسی


ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی۔ (فائل فوٹو)

امریکہ میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے عوام کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تفتیش کریں جن کے بیٹے کو یوکرین کی گیس کمپنی میں بھاری تنخواہ پر ملازمت دی گئی۔ جو بائیڈن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

جو بائیڈن 2020 کے صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کے مقابلے میں آنے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے مضبوط امیدوار ہیں۔

صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کوشاں تھے تاہم سپیکر نینسی پیلوسی اس اقدام کی حمایت نہیں کر رہی تھیں۔ البتہ گزشتہ ہفتے نینسی پیلوسی نے بھی صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔

نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ پر لگنے والے الزام کے بعد انتظامیہ کے رویے نے عوامی رائے پر بھی اثر ڈالا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ کے صدر نے ایک دوسرے ملک کے صدر پر زور دیا کہ وہ انہیں سیاسی فائدہ پہنچائیں ورنہ ان کے ساتھ فوجی تعاون ختم کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے مذاق قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو مذاق قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو مذاق قرار دیا ہے۔

مواخذے کے حامی ڈیموکریٹک اراکین کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس اقدام سے امریکہ کی قومی سلامتی کو نقصان جب کہ صدارتی انتخاب پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ پر اس سے قبل 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس سے مدد لینے کا الزام بھی تھا۔ اس الزام کی تحقیقات کے لیے تفتیش کار رابرٹ ملر کو مقرر کیا گیا تھا۔ جنہوں نے اپنی رپورٹ میں صدر ٹرمپ کو اس الزام سے بری نہیں کیا تھا۔ ملر رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے تحقیقات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر انصاف کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

سپیکر نینسی پیلوسی نے مواخذے کی کارروائی مکمل کرنے سے متعلق کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس کمیٹی شواہد اور حقائق کی جانچ پڑتال کر رہی ہے اس کے بعد ہی پیش رفت ہو گی۔

امریکہ میں کانگریس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایک خاص عمل کے ذریعے عہدے پر موجود صدر کو برطرف کر سکتی ہے۔ یہ عمل یا طریقہ کار جسے مواخذہ کہا جاتا ہے، ایوان کو صدر کی نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔

تاہم، مواخذے کا عمل کئی مراحل سے ہو کر گزرتا ہے اور اس دوران صدر یا مواخذے کی کارروائی کی زد میں آنے والے وفاقی عہدے دار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں وکیل اور شہادتیں پیش کر سکے۔

امریکہ کی تاریخ میں آج تک کسی صدر کو مواخذے کے ذریعے وائٹ ہاؤس سے نکالا نہیں جا سکا۔ ماسوائے صدر رچرڈ نکسن کے جنہوں نے اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کرنے کے بجائے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG