رسائی کے لنکس

ٹی وی اینکرز کی 'پیمرا' کی نئی پابندیوں پر کڑی تنقید


پیمرا کے ہدایات نامے کے مطابق اب صحافی ایک دوسرے کے ٹاک شوز میں بطور مہمان شرکت نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان الیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ٹی وی ٹاک شوز میں زیر بحث لائے جانے والے موضوعات اور مبصرین کے انتخاب سے متعلق 27 اکتوبر کے اپنے ایک ہدایت نامے میں صحافیوں اور اینکرز پر ایک دوسرے کے شو میں مہمان کے طور پر شرکت پر پابندی لگا دی ہے، جس پر بہت سے اینکرز اور صحافیوں نے شدید نکتہ چینی کی ہے۔

صحافیوں اور اینکرز نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کو میڈیا پر بڑھتی پابندیوں کا براہ راست ذمہ دار ٹہرایا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت تمام ریاستی اداروں کی کارروائیوں کے لیے بطور اکائی جوابدہ ہے۔

صحافیوں کی جانب سے مذمت اور نکتہ چینی کے بعد پیمرا نے ایک اور نوٹیفیکشن جاری کہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس نے صحافیوں کی ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی نہیں لگائی جسے سینئر صحافی حامد میر نے اپنی ٹوئٹ میں یوٹرن کا نام دیا ہے۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اس بیان پر حامدمیر، محمد مالک، روف کلاسرا، عامر متین، کاشف عباسی اور مظہر عباس سمیت کئی دوسرے صحافیوں اور اینکرز کے بھی دستخط ہیں۔ بیان صحافیوں کے ٹوئٹر اکاؤنسٹس سے ایک ہی وقت میں جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سینسر شپ دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اور صحافیوں پر بہت زیادہ دباؤ ہے جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

نیوز اینکرز اپنی رائے کا اظہار کیوں نہیں کر سکتے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:20 0:00


صحافی اور اینکر ارشد شریف نے اپنی ٹوئٹ میں پیمرا کے ہدایت نامے کی مذمت سے متعلق صحافیوں کا بیان شامل کیا ہے۔

’سب جوڈس‘ میٹرز یعنی عدالت میں زیر سماعت معاملات پر پہلے بھی گفتگو نہیں ہو سکتی تھی لیکن نوٹیفیکشن میں ایک نئے لفظ ’پری جوڈیشل ‘ کا اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پر بھی بات کرنے کی ممانعت ہے۔

سنیئر صحافی اور اینکر محمد مالک کا کہنا ہے کہ یہ صرف الفاظ کا گورکھ دھندا ہے اور اس ہدایت نامے میں اتنے ابہام ہیں کہ کوئی بھی ادارہ یا شخص اس کی تشریح اپنے مطابق کر سکتا ہے۔

معید پیرزادہ نے اپنے ٹوئٹ میں پیمرا کے ہدایت نامے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گی۔

اینکر بنیادی طور پر صحافی ہوتا ہے

اس سوال کے جواب میں کہ نوٹیفیکشن میں واضح طور پر اینکرز کو ایک دوسرے کے ٹاک شوز میں بطور مہمان شرکت سے منع کیا گیا ہے، سنیئر صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ یہ نوٹیفیکشن کلی طور پر ناقابل فہم اور مضحکہ خیز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینکر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ تمام افراد جو اینکر کہلاتے ہیں وہ پہلے صحافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا یہ سب ہدایات ’کسی‘ کے کہنے پر جاری کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے ’کسی‘ کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

محمد مالک نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پروگرام میں دوسرے صحافیوں کو بلانے کا سلسلہ اس وجہ سے شروع کیا تھا کیونکہ ہر ادارے اور اس کے مالکان کا اپنا ایک نقطہ نگاہ ہوتا ہے جو اس ادارے میں کام کرنے والے صحافی سے مخلتف ہو سکتا ہے۔ دوسرے اینکر کے پروگرام میں جا کر صحافی کھل کر اپنا ذاتی تجزیہ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قانون کے تحت یہ پابندی نہیں لگائی جا سکتی کہ صرف اینکر یا چند سینئر صحافی اپنی راے کا اظہار نہں کر سکتے۔

نسیم زہرہ نے اپنے ٹوئٹ میں پیمرا کے ہدایت نامے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ اپنا کام کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔

نوٹفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی موضوع کے ماہرین ہی کو متعلقہ موضوع پر بات کے لیے چنا جائے۔ جس پر محمد مالک کا کہنا تھا کہ یہ تعین کیسے ہو گا کہ کس شخص کو کس موضوع کا ماہر تسلیم کیا جائے؟

عامر متین کا کہنا تھا کہ سیاست ایک ایسا موضوع ہے جس کی حدود متعین کرنا آسان نہیں ہے اور ایک صحافی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان معاملات پر کھل کر اپنی راے کا اظہار کرے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہفتے کے روز جن پانچ صحافیوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں طلب کیا گیا تھا وہ ان میں شامل تھے اور ان کے بقول انہوں نے اس کا اظہار اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے بھی کیا کہ کسی بھی صحافی یا ادارے پر انفرادی طور پر اعتراض کیا جا سکتا ہے، جس کی وضاحت اس فرد یا ادارے پر لازم ہے، لیکن ایک مبہم حکم نامہ کافی نہیں ہے۔​

محمد مالک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آزادی اظہار پر بندشیں بڑھتی جا رہی ہیں اور پیمرا ںوٹیفیکیشن بھی اسی کا شاخسانہ ہے۔ کون کس موضوع پر کیا بات کرے گا، اس کا فیصلہ حکومت نہیں کر سکتی۔

'بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی'

دوسری طرف صحافیوں کے حقوق کی تنظیم 'رپورٹر سانز بارڈر ​کے پاکستان میں نمائندے اقبال خٹک نے اس نئے حکم نامے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کا برملا اظہار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا پر دراصل حکومت اور دوسرے ریاستی اداروں کا شدید دباؤ ہے جس کا بوجھ وہ خود نہیں اٹھا پا رہے اور اس کا ملبہ میڈیا پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ ایک موضوع کا ماہر ہی متعلقہ موضوع پر بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر اس حجت کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو بہت سے ریٹائرڈ فوجی جو میڈیا پر آ کر سیاست پر بات کرتے ہیں تو انہیں کس نظر سے دیکھا جائے گا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک صحافی یا اینکر اپنے شو پر تو غیر جانبدار ہی ہوتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے لیکن بطور شہری وہ کسی بھی پلیٹ فورم پر بات کر سکتا ہے جسے روکنا مناسب نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں اس وقت عدالتوں میں بہت اہم مقدمات زیر سماعت ہیں جن کی وجہ سے ملک میں ہر روز ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ان اہم موضوعات پر کسی پروگرام میں بات ہی نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیمیں اس تمام صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس صورت حال کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کئی حکومتی عہدے دار بھی پمیرا کے اس نوٹیفیکیشن سے اتفاق کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پیمرا کے ہداہت نامے کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

اس معاملے پر وزیر اعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کسی اینکر کو اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا گیا البتہ ان کے اپنے اپنے مخصوص شوز ہیں جس پر وہ ان قومی معاملات کو زیر بحث لا سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG