رسائی کے لنکس

'جب مولانا بولتے ہیں تو پیمرا دکھانے نہیں دیتا'


سینیٹ کمیٹی کا اجلاس فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو براہ راست کوریج دینے پر پابندی کے خلاف پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا ہے۔

اپوزیشن اراکین سینیٹ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس سے بطور احتجاج واک آؤٹ بھی کیا۔ سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں کیا ہوا؟

قائمہ کمیٹی کا اجلاس حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین پیمرا سلیم بیگ بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ میڈیا پر ہر وقت مولانا فضل الرحمن کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ اور جب مولانا بولتے ہیں تو پیمرا انہیں دکھانے سے روک دیتا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ وزیر اطلاعات تھے اس دوران تحریک انصاف نے 126 دن دھرنا دیا۔ لیکن انہوں نے اس کی کوریج روکنے کے لیے کبھی دباؤ نہیں ڈالا۔ جس پر فیصل جاوید نے اعتراض کیا کہ ہمارا دھرنا میڈیا پر کم دکھایا گیا۔

چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ نے کہا کہ ہم نے میڈیا پر کسی کو سنسر کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ یکم اکتوبر سے 16 اکتوبر تک نجی ٹی وی چینلز نے جمیعت علماء اسلام کو کوریج دی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ براہ راست کوریج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اس پر کمیٹی ارکان کی چیرمین پیمرا سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ پیمرا نے اس وقت نشریات کیوں نہیں روکیں جب وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمن کو 'ڈیزل' کہا تھا۔ چئیرمین پیمرا نے کہا کہ اس حوالے سے انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ جس پر مسلم لیگ ن کے پیر صابر شاہ نے کہا وہ کمیٹی کے توسط سے ابھی شکایت درج کروا دیتے ہیں۔

پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ بھی اجلاس میں موجود تھے۔
پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ وزیر اعظم نے صرف یہ کہا تھا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا۔ جس پر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ وزیر اعظم کا اشارہ کس کی جانب تھا؟

وزیر اعظم اجلاس میں آئیں

کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے پاس وزارتِ اطلاعات کا قلمدان ہے لہذٰا وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ جس پر فیصل جاوید نے کہا کہ اچھی بات ہے ویسے بھی ویر اعظم کے بہت سے مداح ہیں۔ اس پرسینیٹر پرویز رشید سیخ پا ہو گئے اور فیصل جاوید سے کہا کہ آپ بطور چیئرمین کمیٹی یہاں بیٹھیں ہیں پی ٹی آئی کے نمائندے مت بنیں ورنہ آپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکتا ہوں۔

اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا اور کہا کہ چیئرمین پیمرا کے سوالوں کا جواب چیئرمین کمیٹی دے رہے ہیں۔ اجلاس میں نہ اطلاعات کا وزیر موجود ہے اور نہ ہی سیکرٹری۔

مولانا فضل الرحمن 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کمیٹی میں آئیں اور بتائیں کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں لگا رکھی ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس پر مشیر اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مسلح جتھوں کو کسی صورت انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی لیے پیمرا اپنے قوانین کے مطابق فیصلے کررہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اور سابق صدر آصف علی زرداری کی میڈیا کوریج روکنے سے متعلق شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب حکومت کے خلاف آزادی مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی جمعیت علماء اسلام کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG