رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی نائب صدر کی جرمنی اور ترکی پر کڑی تنقید


امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے اپنے ملک کے دو اہم اتحادیوں اور نیٹو کے رکن ملکوں جرمنی اور ترکی کی حکومتوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

نائب صدر پینس نے یہ تنقید ایک ایسے وقت کی ہے جب مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے کی تقریبات شروع ہو رہی ہیں۔

دفاعی اتحاد کے 70 سال مکمل ہونے پر بدھ کو 29 ملکی اتحاد کے وزرائے خارجہ کا اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں ہوا۔

لیکن اس اجلاس سے چند گھنٹے قبل ہی ایک تقریب سے خطاب میں امریکی نائب صدر نے دفاعی بجٹ نہ بڑھانے پر جرمنی اور روس سے میزائل سسٹم خریدنے پر ترکی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

نیٹو کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے پر واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پینس نے کہا کہ اگر ہمارے اتحادی روس پر انحصار کریں گے تو مغرب کے دفاع کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ روس سے گیس کی درآمد اس کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)
جرمنی کا کہنا ہے کہ روس سے گیس کی درآمد اس کی ضرورت ہے۔ (فائل فوٹو)

امریکی نائب صدر نے جرمنی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر ناقابلِ قبول ہے کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت روسی جارحیت کا خطرہ نظر انداز کر دے اور خود اپنے اور اتحادیوں کے مشترکہ دفاع سے غفلت برتے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں بارہا نیٹو کے رکن ملکوں کی جانب سے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کرنے پر برہمی ظاہر کر چکے ہیں۔

نیٹو نے 2014ء میں طے کیا تھا کہ ہر رکن ملک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم دو فی صد دفاع پر خرچ کرنے کا پابند ہو گا۔

لیکن جرمنی سمیت بیشتر رکن ممالک اس ہدف سے اب بھی خاصے دور ہیں جس پر صدر ٹرمپ کی حکومت ان پر برہمی کا اظہار کرتی آئی ہے۔

صدر ٹرمپ ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے اپنے یورپی اتحادیوں کے دفاع کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا اور اگر وہ خود اپنے دفاع پر رقم خرچ نہیں کریں گے تو امریکہ بھی نیٹو سے ہاتھ کھینچ لے گا۔

امریکی حکومت روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خریدنے پر ترکی پر سخت برہم ہے۔ (فائل فوٹو)
امریکی حکومت روس سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام خریدنے پر ترکی پر سخت برہم ہے۔ (فائل فوٹو)

جرمنی کو توانائی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ اس قلت کے پیشِ نظر وہ امریکہ اور کئی مشرقی یورپی ریاستوں کی مخالفت کے باوجود روس سے مزید گیس درآمد کرنے کے لیے نئی پائپ لائن پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

'نارڈ اسٹریم 2' نامی اس پائپ لائن کی تکمیل کے بعد روس یورپی خریداروں کو دگنی گیس فراہم کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

لیکن مخالفین کو اندیشہ ہے کہ روسی گیس پر بڑھتا ہوا انحصار یورپ کے لیے بہتر نہیں کیوں کہ روس ماضی میں بھی سرد موسم میں یورپ کو گیس کی ترسیل روکتا رہا ہے اور آئندہ بھی گیس کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

بدھ کو اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر نے بھی خبردار کیا کہ اگر جرمنی نے نئی گیس پائپ لائن کی تنصیب جاری رکھی تو اس کے نتیجے میں وہ اپنی معیشت روس کے ہاتھوں یرغمال بنا دے گا۔

تاہم صدر ٹرمپ کے مؤقف کے برعکس مائیک پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ یورپ کا "عظیم ترین اتحادی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG