رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کو ایف-35 طیاروں کے پرزوں کی فراہمی معطل


ایف 35 کا شمار دنیا کے مہنگے ترین جنگی طیاروں میں ہوتا ہے۔ یہ طیارہ راڈار کی پکڑ سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکہ نے ترکی کی جانب سے روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام کی خریداری کی پاداش میں انقرہ کو ایف-35 جنگی طیاروں کے پرزہ جات کی فراہمی روک دی ہے۔

پرزہ جات کی فراہمی معطل کرنے کا اعلان پیر کو امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون' نے کیا ہے۔

'پینٹاگون' حکام کے مطابق ترکی کو ایف -35 طیاروں کی پہلی کھیپ رواں سال موسمِ گرما میں ملنا تھی جس سے قبل اسے پرزہ جات اور رہنما دستاویزات فراہم کی جا رہی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پرزہ جات اور دستاویزات کی معطلی پہلا قدم ہے اور اگر ترکی نے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے فیصلے پر نظرِ ثانی نہ کی تو اگلے مرحلے میں اسے طیاروں کی فراہمی بھی معطل کردی جائے گی۔

پینٹاگون کا یہ اعلان ترکی اور امریکہ کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد سامنے آیا ہے جس کے دوران امریکی حکام مسلسل ترکی کو ایف-35 طیاروں کی فراہمی روکنے کی دھمکی دے رہے تھے۔

امریکہ ترکی پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ روس سے زمین سے فضا میں مار کرنے والا ایس-400 ساختہ میزائل دفاعی نظام نہ خریدے ۔

لیکن ترکی کے وزیرِ خارجہ نے رواں ہفتے امریکی دباؤ مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ میزائل دفاعی نظام ان کے ملک کی ضرورت ہے جس کی فراہمی کی تاریخ طے کرنے کے لیے روس سے مذاکرات جاری ہیں۔

پیر کو پینٹاگون کے عبوری ترجمان چارلز سمرز جونیئر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے ترکی پر واضح کردیا تھا کہ اس کے لیے ایس- 400 نظام کی خریداری قطعی ناقابلِ قبول ہے۔

ترجمان کے بقول ترکی کی جانب سے روس سے دفاعی نظام کی خریداری کا فیصلہ واپس نہ لینے تک اسے پرزہ جات کی فراہمی اور وہ دیگر سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں جو ایف-35 طیاروں کو آپریشنل کرنےکے لیے ضروری ہیں۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ترکی ایس-400 کی خریداری کے عزم پر قائم رہا تو اسے ایف-35 طیاروں کی فراہمی کا معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

ترکی مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کا رکن ہے اور امریکہ کے علاوہ کئی نیٹو ممالک بھی روس کے ساتھ انقرہ کے دفاعی روابط اور ترکی کی جانب سے روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام کی مجوزہ تنصیب پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

امریکہ اور ترکی کے درمیان ایف-35 کے جدید ترین ماڈل کے 100 طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ترکی کو پہلے دو طیارے رواں سال جون میں ملنے کی توقع ہے۔

بعض امریکی حکام اس خدشے کا بھی اظہار کرچکے ہیں کہ ترکی کے پاس جدید امریکی اور روسی دونوں طرح کا اسلحہ موجود ہونے کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ روس جدید امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG