رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا افغانستان میں تعینات فوجیوں کی تعداد گھٹانے کا عندیہ


فائل فوٹو

امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کی تعداد میں کمی کے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔ ان میں سے ایک انسدادِ دہشت گردی کا مشن محدود طور پر جاری رکھنا بھی ہے۔

امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے یہ بات بدھ کو کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں امریکی فوج کی کم سے کم موجودگی بھی ایک ممکنہ قدم ہو سکتا ہے۔

البتہ جنرل مارک ملی نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ افغانستان میں کل کتنے فوجی تعینات رکھنا چاہتا ہے۔

ادھر افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان روح اللہ احمد زئی نے جنرل مارک ملی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت کے درمیان امریکی فورسز کی موجودگی کے بارے میں ایک معاہدہ موجود ہے۔ افغانستان سے غیر ملکی فورسز میں کمی یا ایسا کوئی بھی اقدام افغان اور امریکی حکومت مشترکہ طور پر کریں گے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کےبقول افغانستان میں جاری زمینی کارروائیاں مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کی منصوبہ بندی اور عملی شمولیت سے کی جاتی ہیں۔

جنرل مارک ملی نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ افغانستان میں کل کتنے فوجی تعینات رکھنا چاہتا ہے۔ (فائل فوٹو)
جنرل مارک ملی نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ افغانستان میں کل کتنے فوجی تعینات رکھنا چاہتا ہے۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ افغان فورسز صرف فضائی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی فورسز کی معاونت پر انحصار کرتی ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں اس وقت تقریباً 13 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے پانچ ہزار انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ بقیہ فورس افغان فورسز کی تربیت اور مشاورت کے فرائض انجام دے رہی ہے۔

یہ بیانات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان افغان امن مذاکرات جاری ہیں۔ یہ مذاکرات کئی ماہ تک معطل رہنے کے بعد دسمبر میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔

ادھر پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ جلد مکمل ہوں گے اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز اور تشدد میں کمی کا باعث بنیں گے۔

جمعرات کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

ان کےبقول پاکستان توقع کرتا ہے کہ دوحہ میں جاری امن مذاکرات جلد مکمل ہوں گے جن کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات شروع اور تشدد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے امریکہ کے ممتاز ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گراہم پاکستان کے دوست ہیں۔ محمد فیصل کے بقول لنڈسے گراہم پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے اور انہیں مزید گہرا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

محمد فیصل نے کہا کہ سینیٹر گراہم وہی بات کر رہے ہیں جو پاکستان ایک عرصے سے کہہ رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ، افغانستان سے ہٹ کر اپنے باہمی تعلقات میں حائل رکاوٹیں دور کر کے آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل کے بقول سینیٹر گراہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ (فائل فوٹو)
ترجمان دفترِ خارجہ محمد فیصل کے بقول سینیٹر گراہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ان کے بقول سینیٹر گراہم نے جو کچھ کہا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ سینیٹر گراہم نے حال میں امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کے بجائے ہمیں پاکستان سے بات چیت شروع کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان کے مبینہ محفوظ ٹھکانے ختم کر دے تو افغانستان کی جنگ ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں گزشتہ چند سالوں کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ تاہم طالبان اور امریکہ کے درمیان 2018 میں امن مذاکرات کے آغاز کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ بعض امریکی عہدے داروں کا خیال ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG