رسائی کے لنکس

طالبان کا چھ روز میں آٹھویں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ، اشرف غنی کا دورۂ مزار شریف


طالبان کے جنگجوؤں نے بدھ کو بدخشاں صوبے کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان طالبان کی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ چھ روز میں وہ آٹھ صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ جنگجوؤں کی پیش قدمی کے پیشِ نظر صدر اشرف غنی طالبان مخالفین کے گڑھ مزار شریف پہنچ گئے تاکہ مقامی فورسز کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طالبان کے جنگجوؤں نے بدھ کو بدخشاں صوبے کے دارالحکومت فیض آباد پر قبضہ کر لیا ہے۔

صوبائی کونسل ممبر جواد مجددی کے مطابق صوبائی دارالحکومت پر قبضے سے قبل افغان فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد طالبان مکمل طور پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ افغان صوبے بدخشاں کی سرحد تاجکستان، پاکستان اور چین سے ملتی ہیں اور اس صوبے کو اسٹریٹجک اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے خلاف لغمان، لوگر، پکتیا، زابل، غور، بلخ، ہلمند، کپیسا اور بغلان صوبوں میں جھڑپیں ہو رہی ہیں جس کے دوران 431 جنگجو مارے گئے ہیں۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی ملک کے چوتھے بڑے شہر مزار شریف پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ملک کے شمالی علاقوں میں سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دورۂ مزار شریف کے دوران شہر کی ایک مضبوط شخصیت عطا محمد نور کے ساتھ ملاقات متوقع ہے جب کہ جنگجو سردار عبدالرشید دوستم سے بھی وہ شہر کے دفاع کے سلسلے میں بات چیت کریں گے۔

اشرف غنی نے دورۂ مزار شریف ایسے موقع پر کیا ہے جب طالبان شہر کے مضافاتی علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کا مزار شریف پہچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی کا مزار شریف پہچنے پر استقبال کیا جا رہا ہے۔

افغانستان کی موجودہ صورتِ حال پر امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے فضائی حملے طالبان کی افغانستان بھر میں پیش قدمی کو متاثر کر رہے ہیں تاہم صرف امریکی قوت عسکریت پسندوں کے حملوں کو پسپا کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔

وائس آف امریکہ کے لیے جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کئی ہفتوں سے قطر میں واقع اپنے فضائی اڈے العدید اور خلیج فارس میں اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ سے طالبان کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگجوؤں پر حملے کے لیے اے 130 گن شپس اور ایم کیو نائن ریپر ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔

ایسے میں جب طالبان دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے گروپ نے گزشتہ پانچ دنوں میں سات صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے، امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے مؤثر ہونے کے بارے میں کئی سوالات موجود ہیں۔

منگل کو طالبان نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کا آٹھواں صوبائی دارالحکومت (بدخشاں صوبے کا دارالخلافہ فیض آباد) بھی قبضے میں آنے والا ہے۔

پینٹاگان کے پریس سیکریٹری جان کربی نے کہا ہے کہ ہم بہت پر اعتماد ہیں کہ ہمارے فضائی حملے انہی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں جنہیں ہم نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے طالبان پر اثرات ہوں گے۔

جان کربی، پریس سیکریٹری محکمہ دفاع
جان کربی، پریس سیکریٹری محکمہ دفاع

کربی نے تسلیم کیا کہ صرف امریکی حملے طالبان جنگجوؤں کو دور رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ افغان فورسز اپنے ملک کے دفاع کی اہلیت و صلاحیت رکھتی ہے اور ان کی عددی قوت بھی زیادہ ہے۔ اب یہ افغان قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان صلاحیتوں کو استعمال میں لائے۔

ادھر وائٹ ہاؤس میں صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست تک امریکی انخلا مکمل کرنے پر نظر ثانی نہیں ہو گی اور افغان فورسز کو لڑائی کے لیے خود کو تیار کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے 20 برسوں کے دوران افغانستان میں ایک ٹریلین (دس کھرب) ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ ہم نے تین لاکھ افغان فورسز کو تربیت دی اور انہیں جدید سامان سے لیس کیا ہے، ان کی تعداد طالبان سے کہیں زیادہ ہے۔"

صدر بائیڈن نے کہا کہ افغان سیکیورٹی فورسز کو اپنے اور اپنی قوم کے لیے لڑنا چاہیے۔

امریکی عہدیدار زور دے رہے ہیں کہ افغان فورسز جم کر لڑیں جس سے افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ فائدہ پہنچے۔ لیکن افغان صدر اشرف غنی کے گزشتہ ماہ اس اعلان کے باوجود کہ ملک میں استحکام کے لیے فوج نے نئی مہم شروع کر دی ہے، زمین پر ایسی پیش رفت کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر سلسلہ وار پوسٹوں میں دعویٰ کیا کہ طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے صوبے فراہ کے دارالحکومت فراہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فورسز فیض آباد شہر کو بھی فتح حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ یہ شہر بدخشاں صوبے کا دارالحکومت ہے۔

وائس آف امریکہ آزادانہ طور پر طالبان کے ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

کابل میں امریکی سفارتخانے کے لیے خطرات ؟

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ کابل میں اپنے سفارت خانے کے خطرات کا جائزہ روزانہ کی بنیاد پر لے رہا ہے۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ان خیالات کا اظہار اس سوال پر کیا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کے بعد سفارتی عملے میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے؟

ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کے اعتبار سے چیلنجنگ ماحول ہو۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سفارتخانہ واشنگٹن میں سینئر عہدیداروں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور یہ عہدیدار آگے وائٹ ہاؤس سے رابطے میں ہیں۔

نیڈ پرائس نے بتایا کہ فی الوقت ہم وہ تمام سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں۔

ایسے میں جب طالبان افغانستان کے ان علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں جہاں انہوں نے قبضہ کیا ہے، منگل کے روز کئی شہری اپنے گھروں میں محصور رہے۔

یورپی یونین کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ عسکریت پسند اس وقت ملک کے 65 فی صد سے زائد علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔

اس صورتِ حال سے متعلق سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ افغانستان میں جس سطح کا تشدد دیکھنے میں آ رہا ہے، وہ اس معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتا جس پر طالبان نے اتفاق کیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت طالبان نے ضمانت دی تھی کہ وہ دہشت گرد تنظیموں سے رابطے منقطع کریں گے اور افغان سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔

اس معاہدے کی رو سے امریکہ نے افغانستان سے مکمل انخلا کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG