رسائی کے لنکس

افغانستان میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا مستقبل کیا ہو گا؟


فائل فوٹو

افغانستان میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے باعث جہاں ملک میں معاشی اور سماجی شعبے متاثر ہو رہے ہیں وہیں افغانستان میں زیرِ تعلیم سیکڑوں پاکستانی طلبہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بدھ سے افغانستان کے تمام نجی اور سرکاری شعبوں میں قائم میڈیکل کالجز کے سالانہ امتحانات شروع ہو رہے ہیں جس سے ان طلبہ کا سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

اس وقت افغانستان کے مختلف شہروں میں قائم میڈیکل کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں میں آٹھ سو سے ایک ہزار تک پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں جو پانچ مئی سے نافذ لاک ڈاؤن کے بعد گھروں کو واپس آ چکے ہیں اور اب افغانستان میں طالبان اور افغان فوج کے درمیان جاری مسلح محاذ آرائی کے نتیجے میں افغانستان نہیں جا سکتے۔

افغانستان کے میڈیکل کالجوں اور تعلیمی اداروں میں زیادہ تر خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی پشتون برادری سے تعلق رکھنے والے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ طلبہ پاکستان کے قبائلی ضلع خیبر سے ملحقہ افغان سرحدی صوبے ننگرہار کے مرکزی شہر جلال آباد کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔

افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ سے ملحقہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سلیمان خان نے بتایا کہ وہ پانچ مئی سے گھر پر ہیں اور لڑائی کے باعث افغانستان نہیں جا سکتے۔ سلیمان جلال آباد کے روخان میڈیکل کالج کے طالبِ علم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جلال آباد میں ان کے افغانستان سے تعلق رکھنے والے ساتھی باقاعدہ درس و تدریس میں مصروف ہیں اور ان کے سالانہ امتحانات 11 اگست سے شروع ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کو افغانستان نہیں جانے دیا جا رہا۔

ان کے بقول، وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہ طورخم کے چکر لگا رہے ہیں مگر متعلقہ حکام انہیں افغانستان نہیں جانے دیتے۔ حالاں کہ ان کے بقول عید الفطر اور عید الاضحٰی کے بعد ہزاروں ان پاکستانی باشندوں کو افغانستان جانے دیا گیا ہے جو وہاں پر معاشی اور کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سلیمان خان نے کہا کہ طورخم پر انہیں بارڈر حکام نے اسلام آباد سے بذریعہ جہاز کابل جانے کا مشورہ دیا ہے۔ مگر ان سمیت زیادہ تر طلبہ کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے اور وہ ہوائی سفر کے اتنے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

سلیمان خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر طلبہ جلال آباد کے نجی اور سرکاری میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں جن کی تعداد لگ بھگ پانچ سو ہے۔

ان کے بقول، اس کے علاوہ کابل، خوست، پکتیا اور دیگر علاقوں میں بھی طلبہ موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعداد آٹھ سو سے ایک ہزار تک ہے جبکہ بلوچستان، کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی زیادہ تر تعداد افغانستان کے جنوبی شہر قندھار اور اس سے ملحقہ دیگر علاقوں میں زیرِ تعلیم ہے۔

پاکستان اور افغانستان کی تعلیم میں فرق

پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں لوگ ایک عرصے سے افغانستان کے میڈیکل کالجز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اب یہ افراد ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں میں خدمات بھی انجام دے رہے ہیں۔

گیارہ ستمبر 2001 سے قبل افغانستان میں نجی تعلیمی اداروں کا وجود بالکل نہیں تھا اور تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں نہ صرف حصولِ تعلیم بالکل مفت تھا بلکہ تمام ملکی اور غیر ملکی طلبہ کو معقول وظائف بھی دیے جاتے تھے۔ اسی طرح ہاسٹلز میں قیام کرنے والے طلبہ کے تمام تر اخراجات بھی حکومت دیا کرتی تھی۔

تاہم گیارہ ستمبر کے بعد کابل سمیت تمام شہروں اور قصبوں میں نجی تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور ان تعلیمی اداروں میں میڈیکل کالجز سرِفہرست تھے۔

ضلع بونیر سے تعلق رکھنے والے اعزاز اختر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان کے نجی میڈیکل کالجز کے اخراجات اور فیس پاکستان کے نجی میڈیکل کالجز سے بہت کم ہیں۔ اسی لیے بہت سے طلبہ اب یہاں کے سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ملنے کے بعد افغانستان کے نجی میڈیکل کالجز میں داخلے لیتے ہیں۔

حکومت کا مؤقف

خیبرپختونخوا کے وزیرِ قانون فضل شکور خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث حکومت ان طلبہ کو وہاں جانے نہیں دے رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف مغربی اور یورپی ممالک بشمول امریکہ اپنے شہریوں کو وہاں سے نکلنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔ ان حالات میں کس طرح ان طلبہ کو افغانستان جانے دیا جائے۔

افغانستان کی صورتِ حال

امریکہ کی جانب سے افغانستان سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد سے طالبان کی پیش قدمی میں تیزی آ گئی ہے۔

اس وقت افغانستان کے مختلف علاقوں میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک پانچ صوبوں کے ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG