رسائی کے لنکس

افغانستان: 'وہ دور آنے والا ہے جسے سوچنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں'


افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے تمام طبقہ فکر کے افراد پریشان ہیں۔

"میں چاہتی ہوں کہ ماڈلنگ کے ذریعے افغانستان کی ثقافت اور تہذیب کو پوری دنیا میں جدید انداز میں روشناس کرا سکوں اور ساتھ ہی میں دنیا کی بہترین ماڈلز کی قطار میں اپنا نام بھی رقم کرانا چاہتی ہوں۔"

یہ کہنا ہے نوجوان افغان ماڈل رومیلا ناصری کا جو ماڈلنگ کو اپنا 'خواب' قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں افغان لباس ثقافت کے لحاظ سے بہت بھرپور ہے لیکن بدقسمتی سے آج تک اسے صحیح معنوں میں عالمی سطح پر متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ ان کے بقول اب یہ کام وہ خود کرنا چاہتی ہیں۔

افغانستان کے صوبے فریاب سے تعلق رکھنے والی رومیلہ ناصری کہتی ہیں کہ ایک جنگ زدہ ملک ہونے کے باوجود افغانستان صدیوں کی ثقافت اور تہذیب رکھتا ہے جو کبھی نہیں بھولنی چاہیے۔

ان کے بقول ماڈلنگ کے فن نے نوجوان نسل کو بولنے اور تخلیقی سوچ کی ہمت دی ہے اور اب بے شمار نوجوان لڑکیاں ان سے رابطہ کرتی ہیں جو ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

لیکن افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے جہاں کئی طبقات پریشان ہیں وہیں رومیلا بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان مختلف صوبوں میں جھڑپیں ہو رہی ہیں اور جنگجو تیزی سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضے کر رہے ہیں۔

افغان ماڈل رومیلہ ناصری کا کہنا ہے کہ ماڈلنگ کے فن نے نوجوان نسل کو بولنے اور تخلیقی سوچ کی ہمت دی ہے۔
افغان ماڈل رومیلہ ناصری کا کہنا ہے کہ ماڈلنگ کے فن نے نوجوان نسل کو بولنے اور تخلیقی سوچ کی ہمت دی ہے۔

نوجوان ماڈل کہتی ہیں کسی بھی جگہ جب سیکیورٹی کی صورتِ حال خراب ہوتی ہے تو اس کا سب سے پہلا نشانہ خواتین اور بچے بنتے ہیں جب کہ ساتھ ہی فن و ثقافت سے جُڑے افراد بنیادی ٹارگٹ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں خواتین کافی گھبرائی ہوئی ہیں۔ انہیں ہمیشہ اس بات کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں خدانخواستہ افغانستان کی دو دہائیوں کی تمام کامیابیوں پر پانی نہ پھر جائے۔

رومیلا ناصری نے بتایا کہ اگر ماضی کا مشاہدہ کیا جائے تو ملک پر قبضہ کرنے والے وہی لوگ ہیں جو افغان شہریوں کو ایک بار پھر پتھر کے دور میں لے جانے پر تُلے ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عالمی برادری افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑے تا کہ وہ اور ان جیسی دیگر افغان خواتین اپنی تہذیب کی نمائندگی کر سکیں اور ایک پرُ امن دنیا میں زندگی گزار سکیں۔

یاد رہے کہ سن 2001 میں افغانستان پر امریکی یلغار کے بعد طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جس کے بعد افغانستان ترقی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہوا تھا۔

فنون لطیفہ سے جُڑے افراد اپنے ملک واپس آئے تھے، کھیلوں کی سرگرمیوں کا پیشہ ورانہ طور پر آغاز ہوا تھا جب کہ سنیما اور تھیٹر بھی کھل گئے تھے اور تفریح کے نِت نئے انداز سے افغان عوام محظوظ ہونے لگے تھے۔

قندھار، مزار شریف، ہرات، بلخ اور کابل میں تین وقت فلمیں چلنے لگیں تھیں اور شہری بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں سے محظوظ ہو رہے تھے۔

’اس وقت خوف کا ماحول ہے، زندگی میں وحشت محسوس ہوتی ہے‘

یاسمین یرمل گزشتہ 30 برس سے فلم، ڈرامہ اور تھیٹر کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے 80 سے زائد فلموں اور 15 ڈرامہ سیریل میں مرکزی کردار ادا کیا ہے جب کہ یہ افغان قومی ٹیلی ویژن 'آر ٹی اے' اور دیگر عالمی اداروں سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سینما انسانی سوچ کو وسعت دیتا ہے۔ ہنر تاریکی کو مٹاتا ہے اور روشنی پھیلاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق افغان رہنما ببرک کارمل، نور الامین ترکئی اور ڈاکٹر مجیب کا وقت فلمی صنعت کے لیے بہت سازگار تھا اور اس وقت آزادی تھی، لوگ فلم اور موسیقی کو پسند کرتے تھے اور روزگار کے وافر مواقع تھے۔ لیکن بعد میں صورتِ حال یک دم تبدیل ہوئی جس کا سب سے بُرا اثر ادب، فن اور ہنر پر پڑا۔

یاسمین یرمل کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں ایک نوجوان نسل تیار ہوئی ہے جس کی سوچ ترقی پسند ہے۔
یاسمین یرمل کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں ایک نوجوان نسل تیار ہوئی ہے جس کی سوچ ترقی پسند ہے۔

موجودہ حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت خوف کا ماحول ہے، زندگی میں وحشت محسوس ہوتی ہے اور عام عوام اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔

یاسمین یرمل کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں افغانستان میں ایک نوجوان نسل تیار ہوئی ہے جس کی سوچ ترقی پسند ہے۔ وہ ترقی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی وجہ سے دوبارہ تاریکی میں نہیں جانا چاہتے۔

ان کے بقول فن و ثقافت کے ذریعے ایک ملک کی مثبت شناخت ہوتی ہے اور افغانستان کی ثقافت بہت زرخیز ہے یہاں کے ہنرمندوں کی عالمی سطح پر پزیرائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاشرے میں فن کو زوال آتا ہے تو وہ معاشرہ نہ صرف زوال کا شکار ہوتا ہے بلکہ وہاں انتہا پسندی پنپنا شروع ہو جاتی ہے۔

یاسمین یرمل کہتی ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر افغانستان کے موجودہ نظام کی بساط لپٹی ہے تو خون ریزی کا خدشہ ہے۔

’دوبارہ وہ دور آنے والا ہے جسے سوچنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘

حمیرا کاوش کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں اور یہاں ان جیسی بے شمار خواتین موجود ہیں۔
حمیرا کاوش کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں اور یہاں ان جیسی بے شمار خواتین موجود ہیں۔

حمیرا کاوش افغانستان میں معروف فیشن برانڈ 'شملہ ایٹلیئر' کی پیٹرن ماسٹر ہیں اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے افغانستان میں پہلی بار ایسے فیشن ڈیزائنز متعارف کرائے جو تھیم کے ساتھ چلتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں قطعی علم نہیں تھا کہ صدیوں پرانی عظیم ثقافت کو زندہ رکھنا اور پھر اسے عالمی سطح پر روشناس کرانا خطرناک کام ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان نے ترقی کی نئی منزلیں طے کی ہیں لیکن بد قسمتی سے افغانستان کی زمینی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے اور حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں ایک بار پھر وہ دور آنے والا ہے جس کے سوچنے سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

حمیرا کاوش نے بتایا کہ انہوں نے بہت ہی کم عرصے میں افغانستان میں 20 پروفیشنل ماڈلز ٹرینڈ کیے ہیں جو بذات خود بہت بڑی کامیابی ہے۔

ان کے بقول وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں اور یہاں ان جیسی بے شمار خواتین موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے انٹرنیشنل کمیونٹی، بین الاقوامی معاہدوں کے تحت افغان خواتین کی حمایت اور امداد کرتی تھی۔ تاہم اب اگر ایک بار پھر افغانستان کے حالات 30 برس قبل جیسے ہو جاتے ہیں، جس کا خدشہ بہت زیادہ ہے، تو ایسے میں نہ صرف ان کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوں گے بلکہ ہزاروں خواتین گھروں میں قید ہو جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG