رسائی کے لنکس

logo-print

'ملک، جمہوریت، آزادی اور غریب خطرے میں ہیں'


فائل فوٹو

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی کی 12 ویں برسی پر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کا اہتمام کیا۔ اسی مقام کے قریب 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کو انتخابی جلسے کے اختتام پر خود کش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

جلسے سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کہتی تھیں کہ جس ملک میں غریب اور مزدور کا پیٹ خالی ہو وہ ملک مضبوط نہیں ہوتا۔ ملک اندرونی طور پر کمزور ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2020 عوامی حکومت، عوامی راج اور صاف شفاف انتخابات کا سال ہوگا۔ ملک کی عوام سیاسی یتیموں اور سلیکٹڈ حکومت کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ ہمارا ملک، جمہوریت، آزادی اور غریب خطرے میں ہیں۔ ہم پر فرض ہے کہ پاکستان کو بچائیں اور بے نظیر بھٹو کا مشن مکمل کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے پہلی مرتبہ راولپنڈی کے لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کے لیے دو ڈکٹیٹروں کا مقابلہ کیا۔ کہا جاتا تھا کہ ایک خاتون مسلم ملک کی وزیر اعظم نہیں بن سکتیں لیکن مسلم دنیا میں بینظیر بھٹو دو بار وزیر اعظم بنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو عوام کی امید تھیں جب کہ دشمن قوتوں کو یہ قبول نہ تھا۔ انہوں نے جلا وطنی کاٹی جب کہ عوامی راج قائم کرنے کے لیے وہ وطن واپس آئیں۔ راولپنڈی گواہ ہے 27 دسمبر کو دنیا میں پاکستان کی پہچان کو بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج ملک بحرانوں میں مبتلا ہے۔ وفاق متزلزل ہے جب کہ اداروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ صوبے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ڈاکٹرز سے لے کہ مزدوروں تک سب سراپا احتجاج ہیں۔ معیشت کا حال یہ ہے کہ عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کو ملتوی کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ خود مختاری کا عالم یہ ہے کہ وزیر اعظم این او سی کے بغیر دوسرے ملک کا دورہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیا پاکستان کے نام پہ سیاسی یتیموں کا راج ہے۔ نیا پاکستان کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔ آئینی بحران ہے۔ قیادت کا بحران ہی بحران ہے۔ سیاسی یتیموں کا کٹھ پتلی راج ہل رہا ہے۔

قبل ازیں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے خطاب کیا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ویڈیو کے ذریعے جلسے سے خطاب کیا۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے لیاقت باغ میں جلسے کے اہتمام سے قبل پنجاب کے مختلف شہروں میں بلاول بھٹو زرداری نے تنظیمی جلسے بھی کیے تھے۔ جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے اپنی جان قربان کی۔

راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بھی خطاب کر چکے ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی رہنما شیریں رحمٰن کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے لیے بہت مشکل دن ہے۔ آج پیپلز پارٹی کا ہر جیالا دکھی ہے۔ لیکن آج پیپلزپارٹی کارکن پرعزم بھی ہے۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے سارے وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ قوم آج پوچھتی ہے کہ ڈیڑھ سال میں عوام کو کیا ریلیف دیا؟ ان کے بقول سلیکٹرز نے سیاسی جماعتوں کو توڑ کر عمران خان کو الیکشن جتوایا لیکن پھر بھی مطلوبہ اکثریت نہ لے سکے۔ پھر مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو ساتھ ملایا جن پر عمران خان اپوزیشن میں تنقید کرتے تھے۔

بے نظیر کی ہلاکت کے عین وقت پانچ بج کر 20 منٹ پر جلسے میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

'یہ خونیں باغ ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:40 0:00

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ بلاول بھٹو کا لیاقت باغ میں جلسہ پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کو فعال بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے پنجاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کو 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں پذیرائی نہیں مل سکی تھی۔

البتہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی پنجاب سے متعدد نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG