رسائی کے لنکس

logo-print

بے نظیر کی 12ویں برسی پر جلسے کے لیے لیاقت باغ کا ہی انتخاب کیوں؟


تجزیہ کاروں کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر کارکنوں کو جمع کر کے پنجاب میں پارٹی کو دوبارہ سرگرم اور فعال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان میں بائیں بازو کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کی بارہویں برسی کے موقع پر جلسہ گڑھی خدا بخش کے بجائے راول پنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں کر رہی ہے۔

یہ وہی لیاقت باغ ہے جہاں بے نظیر بھٹو ستائیس دسمبر 2007 کو ایک خود کش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

اُن کی ہلاکت کے 13 برس بعد پیپلز پارٹی کے اسی مقام پر جلسے کے انعقاد کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والے تمام جلسے لاڑکانہ میں ان کے مزار سے متصل گراؤنڈ میں ہوتے رہے ہیں۔

لیاقت باغ کی سیاسی تاریخ بہت اہم ہے۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نے کئی مقبول جلسے اسی مقام پر کیے۔

اب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اس میدان میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرنے جا رہے ہیں۔ لیاقت باغ میں ان کا یہ پہلا جلسہ ہوگا۔

جلسے کے لیے لیاقت باغ کا انتخاب کیوں؟

سوال یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد کم عمری میں پارٹی قیادت سنبھالنے والے بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کی بارہویں برسی پر جلسے کے لیے لیاقت باغ کا ہی انتخاب کیوں کیا؟

سیاسی مبصرین کے خیال میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان کی راولپنڈی سے جذباتی وابستگی ہے۔ لیاقت باغ سے محض تین کلو میٹر کی مسافت پر واقع اُس وقت کی سینٹرل جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی اور پھر بے نظیر بھی لیاقت باغ میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہوئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر کارکنوں کو جمع کر کے پنجاب میں پارٹی کو دوبارہ سرگرم اور فعال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ برسی کی تقریب کو پیپلز پارٹی کی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنی نئی سیاسی زندگی شروع کرنے جا رہی ہے۔ اُن کے بقول، لیاقت باغ جلسے سے پیپلز پارٹی اس عزم کا اظہار کرنا چاہتی ہے کہ اس نے جدوجہد کے لیے خود کو دوبارہ تیار کر لیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کے مطابق بلاول بھٹو کا یہ جلسہ ہر اعتبار سے اہم ہوگا اور پیپلز پارٹی اسے ایک نئی امید کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

'لیاقت باغ میں جلسے کی حیثیت علامتی بھی ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:26 0:00

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے نفیسہ شاہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی آخری تقریر ممیں عوام سے جو وعدے کیے، بلاول بھٹو اپنے خطاب میں بتائیں گے کہ وہ ان وعدوں اور علم کو اٹھائے ہوئے ہیں۔

جلسہ کیا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے؟

تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کو اسٹیببلشمنٹ کو دیے جانے والے پیغام کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے لیاقت باغ میں جلسہ عام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم 27 دسمبر کو ایک نئی جنگ اور جدوجہد شروع کر رہے ہیں جس کے لیے ہر قسم کی لڑائی کے لیے تیار ہو کر آنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ وفاق کو پیغام ہے کہ پنڈی! پاکستان پیپلز پارٹی پھر آ رہی ہے۔ شہید ذوالفقار بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے بعد اب پیپلز پارٹی کی تیسری نسل پنڈی آ رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ کہتی ہیں کہ راول پنڈی کے لیاقت باغ میں بلاول بھٹو کے جلسے کی ایک 'علامتی حیثیت' بھی ہے۔

راول پنڈی میں جلسے کا مقتدر حلقوں کو پیغام کے حوالے سے نفیسہ شاہ کہتی ہیں کہ ان کا پیغام وفاق سمیت سب کو ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کی جماعت بنانے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ پی پی پی اس جلسے سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے سامنے طاقت کا اظہار کرنا چاہتی ہے اور سندھ کی جماعت ہونے کو جو طعنہ انہیں دیا جاتا ہے، بتانا چاہتی ہے کہ یہ قومی جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کافی عرصے سے حکومت کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم قیادت پر بدعنوانی کے مقدمات اور گرفتاریوں کے باعث ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے والی صورتِ حال میں مبتلا ہے۔

مظہر عباس کے مطابق پیپلز پارٹی اگلے سال حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلانا چاہتی ہے جس کی کامیابی کا اندازہ لیاقت باغ جلسے سے لگایا جا سکے گا۔

راول پنڈی کی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی کو لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی تاہم پی پی پی نے عدالت سے جلسہ کرنے کی اجازت حاصل کر لی ہے۔

جلسۂ عام میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے علاوہ پارٹی کی مقامی تنظیمیں اور خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب کے مختلف شہروں کے کارکنان بھی بڑی تعداد اور بھرپور انداز سے شرکت کریں گے۔

لیاقت باغ کی تاریخی اہمیت

راول پنڈی کے تاریخی لیاقت باغ کی تاریخ غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی راج کے دور سے شروع ہوتی ہے جہاں انگریز فوجی اس باغ میں مشقیں کیا کرتے تھے۔ اسی مناسبت سے اس کانام 'ایسٹ انڈیا کمپنی گارڈن' یا کمپنی باغ پڑ گیا۔

تقسیمِ ہند سے قبل یہاں جن تاریخ ساز شخصیات نے خطاب کیے اُن میں مہاتما گاندھی، مولانا ظفر علی خان، جواہر لعل نہرو اور مولانا آزاد شامل ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد 16 اکتوبر 1951 کو مُلک کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم لیاقت علی خان اسی باغ میں ایک قاتلانہ حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔ جس کے بعد اس باغ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا۔

لیاقت علی خان کی ہلاکت کے بعد پھر کمپنی باغ سے لیاقت باغ کا ایک نیا حوالہ بنا اور خواجہ ناظم الدّین، چوہدری محمّد علی سمیت تحریکِ پاکستان کی کئی شخصیات نے لیاقت باغ میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔

لیاقت باغ کے وسیع و عریض ہونے کے باعث یہاں کامیاب جلسہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور اُسی جلسے کو کامیاب تصوّر کیا جاتا ہے جس میں عوام میدان کے وسط سے لے کر اس کی طول و عرض تک پھیلے ہوں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹّو غالباً وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے چار مرتبہ یہاں عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے یہاں سے پہلا جلسہ پارٹی کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے 11 جنوری 1970ء میں کیا، جب کہ بہ طور صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان بھی جلسوں سے خطاب کیا۔

بیگم نصرت بھٹّو نے شوہر کی پھانسی کے بعد پارٹی کی چیئرپرسن ہونے کی حیثیت سے اس مقام پر خطاب کیا۔

راول پنڈی کے اِسی لیاقت باغ میں ایک اور تلخ یاد عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان کا جلسہ ہے۔ ان کے خطاب کے لیے پہنچنے سے پہلے ہی فائرنگ کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹّو نے 80 کی دہائی میں جلا وطنی سے واپسی پر اس مقام پر اپنا پہلا اور 27 دسمبر 2007ء کو آخری خطاب بھی لیاقت باغ ہی میں کیا۔

بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد لیاقت باغ میں عمران خان، شیخ رشید، اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے جلسے منعقد ہوتے رہے ہیں تاہم پاکستان کی کسی بڑی سیاسی جماعت نے لیاقت باغ میں اپنی طاقت کے مظاہرے سے اجتناب کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG