رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے میسر نہیں آنے چاہئیں: محکمہٴخارجہ


خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی صورت، کسی دہشت گرد تنظیم کو محفوظ ٹھکانے میسر نہیں آنے چاہئیں

پشاور میں بے گناہ بچوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے، محکمہٴخارجہ کی ترجمان، جین ساکی نے کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے آیا یہ کارستانی پاکستان یا افغانستان کے طالبان کی ہے۔

تاہم، ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی دہشت گرد تنظیم کو کسی بھی صورت میں، محفوظ ٹھکانے میسر نہیں آنے چاہئیں۔

منگل کے روز اخباری بریفنگ کے دوران ایک سوال پر، ترجمان نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے ضمن میں اقدامات کے حوالے سے، امریکہ دونوں ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پشاور میں ہونے والے حملے کے بارے میں، امریکہ نےمختلف سطح پر حکومت ِپاکستان کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ اور، اِس گفتگو کے دوران، امریکہ نے پاکستان کو مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے، اور یہ کہ اِن چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دونوں قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

ایک اور سوال میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے، جس میں شمالی وزیرستان کے علاقے کے پاکستانی طالبان شامل ہیں۔ کیا پاکستانی فوج پاکستانی طالبان کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، یا وہ زیادہ طاقت ور بن چکے ہیں؟

جین ساکی نے کہا کہ یہ حملہ خوفناک نوعیت کا تھا، جس میں بے گناہ بچوں کی کثیر تعداد کی جان لی گئی۔ بقول اُن کے، ’یہ بچوں کے خلاف کیا گیا ایک بزدلانہ حملہ تھا، جو اپنے اسکول کی چھت کے نیچے پڑھائی کے کام میں محو تھے‘۔

ترجمان نے کہا کہ’ہم حکومت ِ پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ کہ انسداد دہشت گردی ہمارے تعلقات کا ایک جُزو لاینفک ہے، جس میں اسٹریٹجک ڈائلاگ بھی شامل ہے‘۔

’ہم پاکستان کو لاحق بدقسمت خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پاکستانی عوام کے لیے اِن ہوٴلناک واقعات سے نمٹنا کوئی نیا معاملہ نہیں۔ لیکن، یہ طے ہے کہ ہم اُن کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ اور، میں نہیں سمجھتی کہ یہ حملہ اِسی گروپ کی ایک بزدلانہ چال کے علاوہ اور کچھ ہے‘۔

ترجمان سے سوال کیا گیا کہ ’امریکہ تحریکِ طالبان پاکستان کی طاقت کے بارے میں کیا اندازہ ہے، جس نے اِس حملے کا دعویٰ کیا ہے؟‘

جواب میں، جین ساکی نے کہا: ’مجھے یہ کہنا ہے کہ ہم نے یہ رپورٹیں دیکھی ہیں، جن میں اُنھوں نے اِس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بات یہ ہے کہ اِس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ اِس لیے، میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ میرے پاس اُن کی طاقت سے متعلق کوئی تازہ اندازہ موجود نہیں۔ میرے خیال میں، میں اپنے آخری جواب میں اس سے متعلق بات کر چکی ہوں‘۔

سوال: ’کیا یہ پاکستان یا امریکہ کے لیے خطرے کا باعث ہیں؟‘

ترجمان: ’ہم نے اِس حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بارے میں رپورٹیں دیکھی ہیں۔ لیکن، ہم نے ابھی اِن کی تصدیق نہیں کی‘۔

ایک اور سوال میں کہا گیا کہ پشاور حملے پر بھارتی وزیر اعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے فون پر بات کی۔ ’کیا پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایکساتھ کام کرسکتے ہیں؟‘

اِس پر، ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ، جان کیری نے دونوں رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے دوران، ہمیشہ اُنھیں مکالمے کی راہ اپنانے کی تلقین کی ہے۔۔ کہ، اُنھیں مل کر کام کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG