رسائی کے لنکس

logo-print

بدعنوانی کے الزام میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پانچ سابق مینجر گرفتار


فائل

پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے مختلف کارروائیوں کے دوران پی ایس او میں 64 ارب روپے کی مبینہ کرپشن میں ملوث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے 5 سابق مینجروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کےگذشتہ تین سال کے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔

نیب کی طرف سے جاری بیان کے مطابق، پی ایس او کے 64 ارب کے اسکینڈل میں ملوث آئل مارکیٹنگ کے 5 سابق منیجرز کو کراچی، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزمان میں اختر ضمیر، کامران افتخار لاری، قیصر جمال، ذوالفقار جعفری اور نذر علی زیدی شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ملزمان پر غیر قانونی طریقے سے نجی پیٹرولیم کمپنی 'بائیکو' کو ٹھیکا دینے کا الزام ہے؛ اور پی ایس او کو غیر معیاری پروڈکٹس سپلائی کی گئی، جس سے قومی خزانے کو 64 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

ان ملزمان کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت کی جانب سے اختر ضمیر اور قیصر جمال کا 13 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے۔ اسلام آباد اور گلگت سے گرفتار کئے جانے والے ملزمان کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔

دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے پی ایس او کے تین سال کے آڈٹ کرانے جب کہ موجودہ منیجنگ ڈائریکٹر پی ایس او سمیت 15 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والی سرکاری کمپنیوں کے سربراہوں کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے پی ایس او کے آڈٹ سے متعلق سپریم کورٹ میں پیش کردہ ٹی او آرز کی منظوری بھی دی۔

آڈیٹر جنرل کے علاوہ نجی آڈٹ فرم کے پی ایم جی پی ایس او کا آڈٹ کرے گی، جب کہ پی ایس او سمیت تمام ادارے اس آڈٹ میں آڈیٹر فرم کے ساتھ تعاون کریں گے۔

عدالتی حکم کے مطابق، کمپنی کو آڈٹ کے لئے 43 لاکھ روپے ادا کئے جائیں گے اور آڈٹ پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری، فروخت اور انتظامی امور کا کیا جائے گا؛ جب کہ آڈیٹر فرم 5 ہفتے میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی۔

عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG