رسائی کے لنکس

logo-print

عورت مارچ پر ’امت‘ اخبار میں نازیبا لفظ کا استعمال؛ ’اس کو ہرگز صحافت نہیں کہا جا سکتا‘


فائل فوٹو

پاکستان کے چار شہروں سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ ’امت‘ میں عورت مارچ کے حوالے سے ذیلی سرخی میں نازیبا لفظ کی اشاعت پر صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

امت اخبار میں پانچ اپریل کو ایک خبر شائع کی تھی جس میں عورت مارچ کے شرکا کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے مارچ کی مذمت کی تھی۔

شائع ہونے والی خبر کی ذیلی سرخی میں نازیبا لفظ کے استعمال پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے شدید مذمت کی ہے۔

پی ایف یو جے نے ایک بیان میں آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن سے اخبار کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

’ایسے غیر اخلاقی الفاظ استعمال کرنے کی شاید ہی کوئی اور مثال ملتی ہو‘

پی ایف یو جے نے اپنے بیان میں تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافتی تاریخ میں ایسے غیر اخلاقی الفاظ استعمال کرنے کی شاید ہی کوئی اور مثال ملتی ہو۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے اس سوال کے جواب میں، کہ کیا صحافت میں ایسی غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے کی کوئی تاریخ موجود ہے؟ کہنا تھا کہ اس سرخی کو ہرگز بھی صحافت نہیں کہا جا سکتا۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ایسے کچھ واقعات ہوئے ہیں جہاں شام کے اخبارات میں، جنہیں عام طور پر کم سنجیدہ سمجھا جاتا تھا، غیر مناسب زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔

’پہلی بار ہوا ہے کہ کسی بڑے اخبار نے غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا ہو‘

مظہر عباس کا وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی بڑے اخبار نے غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا ہو۔ اختلاف رائے رکھنا سب کا حق ہے۔ اگر امت اخبار کی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ عورت مارچ کے خلاف ہے تو اس پر بات کریں۔ انہیں کوئی نہیں روک رہا۔ البتہ غیر اخلاقی زبان کی صحافت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

صحافتی معیار پر بات کرتے ہوئے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی کافی افسوس ناک ہے کہ اخبارات میں مدیر کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا کمرشلزم ہے۔ جب کہ ایڈیٹرز کی جگہ اکثر اخبارات کے مالکان خود بیٹھ گئے ہیں جس سے اخبارات کے معیار پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عارفہ سید کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہے کہ صحافتی معیار مجموعی طور پر زوال کا شکار ہے جس کی وجہ کمرشلزم کے ساتھ معاشرے میں تیزی سے بڑھتا یہ رجحان ہے کہ غلط اور صحیح کی اہمیت کو پس پشت ڈال کر صرف اس بات پر زور دیا جائے کہ آپ کی بات سنی جائے۔ پھر چاہے اس بات کو کرنے کے لیے آپ کو اخلاقی طور پر گرنا پڑے، اس کی اہمیت نہیں رہتی۔

’سوشل میڈیا پر بہت سے افراد اس شہہ سرخی کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں‘

انہوں نے وآٰئس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک معاشرہ کا بڑا حصہ ایسی اخلاق باختہ زبان استعمال کرنے کو درست سمجھتا ہے۔ تو پھر یہ سوچ ذہن سے نکال دینی چاہیے کہ ملک ترقی کر سکتا ہے۔

انہوں نے وزیرِ اعظم کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نے حالیہ گفتگو میں معاشرے میں فحاشی کو جنسی جرائم کی ایک وجہ قرار دیا تھا۔ اتنے اہم عہدے پر بیٹھ کر جو کچھ کہا جاتا ہے اس کے تمام معاشرے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عارفہ سید کا کہنا تھا کہ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب بھی سوشل میڈیا پر بہت سے افراد اس شہہ سرخی کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں جو صحافتی اور اخلاقی، کسی بھی معیار پر پوری نہیں اترتی۔

’کچھ اخبارات کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے بھی ہوتے ہیں‘

صحافت میں غیر جانب داری کے حوالے سے مظہر عباس کا کہنا تھا کہ غیر جانب داری صحافت میں ضروری ہے۔ لیکن کچھ اخبارات کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے بھی ہوتا ہے اور یہ تعلق آج سے نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ تعلق موجود ہے جس کا مقصد کسی خاص سیاسی جماعت کی نمائندگی کرنا ہے ۔

پاکستان میں صحافت پر کیا بیت رہی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:14 0:00

مظہر عباس نے مثال دیتے ہوئے دو اخبارات روزنامہ ’مساوات‘ اور روزنامہ ’جسارت‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قاری وہ اخبار بھی پڑھتے ہیں جو کھل کر کسی ایک جماعت کی یا سوچ کی نمائندگی کرتے ہوں۔ جیسے کہ ’مساوات‘ اخبار تاریخی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا ترجمان اخبار رہا ہے۔ جب کہ روزنامہ ’جسارت‘ جماعت اسلامی کا ترجمان اخبار ہے۔ لیکن ان میں اختلافات کو نظریاتی طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ نہ کہ اخلاق سے گرے ہوئے انداز میں پیش کیا جائے۔

ایچ آر سی پی کا اخبار سے معافی مانگنے کا مطالبہ

دوسری طرف ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے روزنامہ ’امت‘ میں شائع الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے ادارے سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ البتہ مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کے باوجود ابھی تک ’امت‘ اخبار کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اس معاملے پر وائس آف امریکہ نے روزنامہ ’امت‘ کی انتظامیہ اور پبلشر کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ البتہ ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG