رسائی کے لنکس

پی آئی اے نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1961ء میں پروازیں شروع کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ براہ راست پروازیں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے شکاگو اور نیویارک کو ملاتی تھیں۔ ان روٹس پر پی آئی اے نے کئی سو ارب روپے کمائے۔ لیکن، اب انہی روٹس پر ائیرلائن کو گھاٹے کا سامنا تھا

پاکستان کی قومی ائیرلائنز آج سے نیویارک کے لئے پروازوں کا سلسلہ بند کر رہی ہے۔ پی آئی اے کی آخری پرواز اتوار کو نیویارک سے روانہ ہو کر لاہور پہنچے گی۔

اس طرح، پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا شمالی امریکہ کے لئے پروازوں کا سلسلہ 56 سال بعد بند ہوگیا ہے۔ 27 اکتوبر کو لاہور سے پی آئی اے کی آخری فلائٹ پی کے 711 نیویارک پہنچی تھی؛ اور وہی طیارہ پرواز پی کے 712 کے ذریعے نیویارک سے لاہور روانہ ہوگا۔

پی آئی اے اس سے قبل کراچی اور لاہور سے نیویارک کے لئے ہفتے میں دو پروازیں چلاتی تھی۔ لیکن، 10 سال سے سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کے نقصان کے باعث اب یہ پروازیں مستقل بند کی جا رہی ہیں۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد ائیرلائنز کے بڑھتے ہوئے خسارے کو روکنا ہے جو صرف گزشتہ ایک سال میں 40 ارب روپے تھا، جبکہ اس وقت ائیرلائنز کا کُل خسارہ تقریباً 400 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

ترجمان کے مطابق، 29 اکتوبر کے بعد پی آئی اے کی کوئی پرواز دونوں ملکوں کے درمیان آپریٹ نہیں کرے گی۔ بکنگ کا سلسلہ پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے. جن مسافروں نے بکنگ کروا رکھی ہے انہیں بغیر کسی کٹوتی کے رقم واپس کی جا رہی ہے، یا مسافر چاہیں تو اسی ٹکٹ پر انٹرلائن کے ذریعے کسی دوسری ائیرلائن کی پرواز پر امریکہ جاسکتے ہیں۔

پی آئی اے نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان 1961ء میں پروازیں شروع کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ براہ راست پروازیں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے شکاگو اور نیویارک کو ملاتی تھیں۔ ان روٹس پر پی آئی اے نے کئی سو ارب روپے کمائے۔ لیکن، اب انہی روٹس پر ائیرلائن کو گھاٹے کا سامنا تھا۔

امریکہ کی نئی سیکورٹی پالیسی کے باعث، پی آئی اے کو امریکہ کے لئے براہ راست پروازوں کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس لئے، برطانیہ کے مانچسٹر ائیرپورٹ پر ائیرلائن کو اضافی لینڈنگ، مسافروں اور عملے کا قیام اور ٹیک آف کرنا پڑتا تھا جبکہ طیارے کی مکمل چیکنگ بھی ایک بار پھر ہوتی تھی، جس کے باعث مالی نقصان زیادہ اور مسافر دوسری ائیرلائنز کو ترجیح دینے لگے تھے۔

اس وقت پی آئی اے کے پاس 32 جہازوں کا بیڑہ ہے جس میں کئی جہاز لیز پر حاصل کئے گئے ہیں۔ ادارے میں انتظامی بحران، ضرورت سے زیادہ ملازمین کی بھرتی اور پھر جہازوں کی بری حالت کے باعث پی آئی اے 12 سال سے بھاری مالی خسارے کا شکار ہے۔

ماضی کی بہترین ائیرلائنز میں شمار کی جانے والی پی آئی اے کو اس وقت شدید انتظامی اور مالی بحران کا سامنا ہے۔ طیاروں کی کمی کے باعث پی آئی اے کی اندرون ملک پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوتا ہے جس کے باعث مسافروں کی تعداد میں ہر سال متواتر کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

پاکستان ائیرلائنز اس وقت 28 بین الاقوامی اور 25 ملکی ائیرپورٹس پر آپریٹ کر رہی ہے۔ اکثر اہم بین الاقوامی روٹس پر پہلے براہ راست پروازیں چلائی جاتی تھیں جو پہلے ایک سٹاپ اور پھر انہیں بھی بند کرنے کی نوبت آ پہنچی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG