رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی مسافر طیارے کی جنگی جہازوں کے حصار میں لینڈنگ


رائٹرز کے مطابق ’اسٹینس ٹیڈ‘ کے ہوائی اڈے پر اتارے جانے کے بعد برطانوی پولیس کے اہلکار طیارے میں سوار ہوئے اور دو مسافروں کو حراست میں لے لیا۔

پاکستان سے برطانیہ جانے والے 'پی آئی اے' کے ایک مسافر طیارے کو برطانوی جنگی طیاروں کے حصار میں لندن کے قریب ’اسٹینس ٹیڈ‘ کے ہوائی اڈے پر اتارنے کے بعد پولیس نے دو مسافروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق ’اسٹینس ٹیڈ‘ کے ہوائی اڈے پر اتارے جانے کے بعد برطانوی پولیس کے اہلکار طیارے میں سوار ہوئے اور دو مسافروں کو حراست میں لے لیا۔

ایئرپورٹ انتظامیہ کے ایک ترجمان کےمطابق طیارے کے تمام مسافر بخیریت ہیں اور انہیں ہوائی اڈے منتقل کردیا گیا ہے۔

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی 'پی آئی اے' کی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ پرواز 'پی کے 709' لاہور سے برطانیہ کے شہر مانچسٹر جارہی تھی اور اس میں عملے کے افراد کے علاوہ 297 مسافر سوار تھے۔

'رائٹرز' کے مطابق مانچسٹر کے ہوائی اڈے پر لینڈنگ سے چند منٹ قبل طیارے کو برطانوی فضائیہ کے جنگی جہاز نے حفاظتی حصار میں لے کر اس کا رخ اسٹینس ٹیڈ کی جانب پھیر دیا تھا۔

مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ طیارے پر سوار مسافروں کے مابین جھگڑے اور عملے سے تلخ کلامی کے بعد پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو طیارے میں بدنظمی کی اطلاع دی تھی جس کےبعد سیکیورٹی خدشات کےپیشِ نظر طیارے کا رخ بدلا گیا۔

برطانوی پولیس کی جانب سے جاری کیے جانےوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دو مسافروں کو طیارے کو خطرے میں ڈالنے کے خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لیا گیا ہے جن کی عمریں 30 اور 41 برس ہیں۔

بیان کے مطابق دونوں افراد کو مزید تفتیش کے لیے مقامی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس واقعے سے دو روز قبل لندن کی ایک شاہراہ پر ایک برطانوی فوجی کو خنجروں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا جس کےبعد سے ملک بھر میں سیکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

برطانوی حکومت نے فوجی پر حملے کو دہشت گردی کی کاروائی قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG