رسائی کے لنکس

logo-print

پی کے: تنازعات اور جلاوٴ گھیراوٴ کے باوجود کروڑوں کما گئی


’پی کے‘ کو رائٹ ونگ کے شدت پسند گروہوں کی مخالفت اور احتجاج کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ فلم نے ہندووٴں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے... جبکہ، نوجوانوں نے اسے بہت پسند کیا

بالی وڈ کے کئی ریکارڈز کو ’چکنا چور‘ کرکے، نئے معیار قائم کرنے والی مسڑ پرفیکشنسٹ، عامر خان کی نئی بلاک بسٹر فلم ’پی کے‘ ریلیز کے بعد سے صرف اپنی کامیابی کی وجہ سے ہی خبروں میں نہیں، بلکہ فلم کے خلاف کیا جانے والا مسلسل احتجاج فلم کو میڈیا سے ’آوٹ‘ نہیں ہونے دے رہا۔

بالی وڈ کے میگا ڈائریکٹر راج کمار ہیرانی۔۔جن کے کریڈٹ پر ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ جیسی تاریخ ساز فلم ہے، انہی کی ڈائریکشن میں بننے والی عامر خان، انوشکا شرما، سنجے دت اور بومن ایرانی کی اسٹار کاسٹ سے سجی ’پی کے‘ کو رائٹ ونگ کے شدت پسند گروپوں کی مخالفت اور احتجاج کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ فلم نے ہندووٴں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ نوجوانوں نے نہ صرف فلم کو بہت پسند کیا، بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’پی کے‘ میں ایسا کچھ نہیں کہ جس سے مذہبی جذبات کی توہین کا پہلو نکلے۔ فلم کی کاسٹ سمیت فلم سے جڑے ہر شخص نے بھی احتجاج کو مسترد کر دیا ہے۔

’بزنس اسٹینڈرڈز‘ نے انڈو ایشین نیوز سروس کے حوالے سے کہا ہے کہ’وشواہندو پریشد‘ فلم کی بے مثال کامیابی سے متاثر نظر نہیں آتی اور اس نے ایک بار پھر فلم کے ایسے حصوں کو حذف کرنے کا مطالبہ دہرایا ہے، جس میں، بقول اُن کے، ہندووٴں کے مذہبی جذبات کی توہین کی گئی۔

ویشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے پرانی دلی میں واقع ڈیلائٹ سینما کے باہر مظاہرہ کیا جہاں ’پی کے‘ کی نمائش کی جارہی تھی۔ اس کے علاوہ کان پور، بھوپال، بھونیشور میں بھی ’پی کے‘ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوا اور مظاہرین نے پی کے پوسٹرز پھاڑ دئیے۔

فلمی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ فلم نے دو ہفتوں سے بھی کم وقت میں 246 کروڑ کا بزنس کیا ہے، لیکن اس کے باوجود احتجاج نے باکس آفس کلیکشن پر اثر ڈالا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر راج کمار ہیرانی اس صورتحال سے کافی رنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں دکھ ہے کہ ’پی کے‘ پر ہندوازم کی توہین کے الزامات لگائے گئے۔

ساتھ ہی ساتھ، انہوں نے ان کروڑوں لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جو نہایت مذہبی ہیں۔ لیکن، انہوں نے فلم کو پسند کیا اور احتجاج کی مذمت کی۔ ہیرانی نے احتجاجی گروپوں پر زور دیا کہ وہ ایک بار ’پی کے‘ دیکھیں ضرور۔

بالی وڈ کی متعدد شخصیات نے بھی کھل کر ’پی کے‘ کی حمایت کی اور ٹوئیٹر پر فلم کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ڈائریکٹر کرن جوہر نے ٹوئٹ کیا کہ یہ کس قسم کی جمہوریت ہے جس میں ہم زندہ ہیں؟

ایکٹریس پوجا بھٹ کا کہنا تھا کہ خدا کو اچھے کام چاہئیں۔ مذہب کے نام پر شور کرنے والے نہیں۔ آئیے سب ملکر ’پی کے‘ کو سپورٹ کریں۔

فلم میکر اودے چوپڑہ نے ’پی کے‘ کو ہندی سینما کی اہم ترین فلم قراردیتے ہوئے کہا کہ فلم بہت زبردست ہے۔

تاہم، ہندو پریشد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’پی کے‘ میں ہندو دھرم کا ہر ممکن مذاق اڑایا گیا ہے۔ عیسائیت اور اسلام پر حملوں کے چند ہی سین ہیں جو بمشکل دومنٹ پر مبنی ہیں، جبکہ باقی ڈھائی گھنٹے سے بھی زیادہ صرف ہندو مذہب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG