رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی نژاد کرکٹ اسٹارز جنہوں نے دوسرے ملکوں کی نمائندگی کی


پاکستان یا کسی پاکستانی نژاد کھلاڑی نے پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی انٹرنیشنل کرکٹ میں نمائندگی کی ہے تو ایسے ملکوں کی فہرست میں انگلینڈ نمایاں ہے۔

حال ہی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ نے آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کو پی ایس ایل سکس کے بقیہ میچز کے لیے اپنی فرنچائر میں شامل کیا ہے۔ ان کا انتخاب ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں ہوا ہے لیکن وہ اس پر بے حد خوش ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ بننے کے بعد عثمان خواجہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان میں کھیل کر اچھا لگے گا کیوں کہ ان کی پیدائش پاکستان کی ہے۔

عثمان خواجہ اسلام آباد میں پیدا ہوئے لیکن پانچ برس کی عمر میں وہ اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے جہاں انہوں نے آگے جاکر آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔

عثمان خواجہ دنیا کے پہلے کرکٹر نہیں جن کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن انہوں نے کرکٹ دوسرے ملک کی جانب سے کھیلی۔ ایسے کئی کھلاڑی ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے یا ان کے آباؤ اجداد کا تعلق پاکستان سے تھا۔ وہ آج بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں کسی اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔

اس فہرست میں کینیڈا، متحدہ عرب امارات، اسکاٹ لینڈ سمیت ان ایسوسی ایٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کا ذکر نہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ ہی نہیں کھیلی۔ حالاں کہ بہت سے پاکستانی کرکٹرز ان ممالک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

انگلینڈ کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی اور پاکستانی نژاد کھلاڑی

اگر پاکستان یا کسی پاکستانی نژاد کھلاڑی نے پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی انٹرنیشنل کرکٹ میں نمائندگی کی ہے تو ایسے ملکوں میں انگلینڈ نمایاں ہے۔ سن 1999 میں پاکستانی نژاد آفتاب حبیب کے ڈیبیو سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے صرف دو کرکٹرز عثمان افضال اور اویس شاہ نے انگلینڈ کی نمائندگی کی لیکن باقی درجن بھر کھلاڑیوں کے والدین کا تعلق پاکستان سے رہا ہے جس میں موجودہ ٹیسٹ اور وائٹ بال ٹیم کے رکن معین علی بھی شامل ہیں۔

کراچی میں پیدا ہونے والے اویس شاہ بچپن میں ہی اپنے والدین کے ہمراہ انگلینڈ منتقل ہو گئے تھے۔ 90 کی دہائی میں اسٹائلش بیٹنگ اور کلب کرکٹ میں رنز کا انبار لگانے کی وجہ سے ان کا موازنہ سابق انگلش بلے باز 'ینگ مارک رامپرکاش' سے کیا جاتا تھا۔ 2001 میں انہوں نے پہلی بار انگلینڈ کی ون ڈے کرکٹ میں نمائندگی کی اور پانچ سال بعد انہیں ٹیسٹ کیپ ملی۔

اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں بھارت کے خلاف 88 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے اویس شاہ نے اپنے کریئر کے دوران چھ ٹیسٹ، 71 ون ڈے اور 17 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ نوجوان کھلاڑیوں کی آمد کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔

سابق انگلش بلے باز اویس شاہ
سابق انگلش بلے باز اویس شاہ

اویس شاہ سے قبل انگلینڈ کی ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی عثمان افضال تھے۔ وہ راولپنڈی میں پیدا ہوئے لیکن تین ٹیسٹ میچز انہوں نے انگلینڈ کی طرف سے کھیلے۔ پاکستانی کرکٹر فواد عالم ان کے کزن ہیں لیکن اپنے پاکستانی کزن کی طرح عثمان افضال کرکٹ میں کوئی بڑا کارنامہ نہ دکھا سکے۔

اگر پاکستانی نژاد کرکٹرز کی بات ہو تو سب سے پہلے نام آفتاب حبیب کا آئے گا، جنہوں نے 1999 میں انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹیسٹ کھیلنے والے کرکٹر کی انٹرنیشنل ٹیم تک رسائی سے ان پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے راہیں کھلیں جو انگلینڈ کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے۔

اس کے بعد کبیر علی، ساجد محمود، امجد خان، اجمل شہزاد، ظفر انصاری اور ثاقب محمود جیسے کئی پاکستانی نژاد کرکٹرز نے انگلینڈ کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نمائندگی کی۔ لیکن جو مقام عادل راشد اور معین علی کو ملا وہ کسی کسی کے حصے میں آتا ہے۔

لیگ اسپنر عادل راشد جو پیدا تو انگلینڈ میں ہوئے لیکن ان کے خاندان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ 2015 میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے اس بالر نے انگلینڈ کی کئی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انگلش اسپنرز معین علی (دائیں)، عادل رشید (بائیں)
انگلش اسپنرز معین علی (دائیں)، عادل رشید (بائیں)

عادل راشد 19 ٹیسٹ، 109 ون ڈے اور 57 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں انگلینڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ وہ اب تک انگلینڈ کے لیے 273 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

دوسری جانب معین علی ہیں جن کا شمار انگلینڈ کے اُن آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے جو کبھی بھی، کہیں بھی، کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے بیٹنگ میں اننگز کا آغاز بھی کیا اور اسپین اٹیک کی بھی ذمہ داری اٹھائی، اور اسی وجہ سے آج انہیں انگلش ٹیم کا ایک اہم رکن مانا جاتا ہے۔ معین علی نے اپنے کریئر کے دوران اب تک 61 ٹیسٹ، 109 ون ڈے اور 34 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جس میں آٹھ سینچریوں سمیت 5000 سے زائد رنز بھی شامل ہیں۔

عثمان خواجہ (آسٹریلیا)

پیشے کے اعتبار سے عثمان خواجہ ایک پائلٹ ہیں لیکن جو خوبیاں ایک جہاز کو اڑانے کے لیے درکار ہوتی ہیں، وہی ایک اچھے اوپننگ بیٹسمین میں ہونا بھی ضروری ہیں۔ اسی لیے عثمان خواجہ نے اننگز کا آغاز کرنے میں مہارت حاصل کی۔

پانچ سال کی عمر میں والدین کے ہمراہ اسلام آباد سے آسٹریلیا منتقل ہونے والے اس کرکٹر نے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم میں جگہ بنائی۔ وہ نہ صرف آسٹریلیا کے پہلے مسلم کرکٹر ہیں بلکہ اپنی میچ وننگ اننگز کی بدولت کئی مرتبہ آسٹریلیا کو یقینی شکست سے بھی بچا چکے ہیں۔

عثمان خواجہ نے 44 ٹیسٹ اور 40 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ دونوں فارمیٹ میں ان کی اوسط 40 رنز فی اننگز سے بھی زیادہ ہے، ج کہ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے آٹھ اور ون ڈے میں دو سینچریاں بنائیں۔

فواد احمد (آسٹریلیا)

ویسے تو فواد احمد نے آسٹریلیا کی نمائندگی آخری بار 2013 میں کی تھی۔ لیکن ان کی کہانی کسی فلم کی کہانی سے کم نہیں۔ تین ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے والا یہ لیگ اسپنر ہے تو پاکستانی بالر یاسر شاہ کا کزن لیکن اس کی قسمت ان سے بہت مختلف ہے۔

سن2010 میں طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے آسٹریلیا منتقل ہونے والے فواد احمد کو آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے کے لیے مزید تین برس انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران انہوں نے نیٹ پر آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بیٹنگ پریکٹس کرائی اور ڈیمین مارٹن اور اسٹورٹ میک گل کو کافی متاثر کیا۔

سال 2013 میں فواد نے وائٹ بال فارمیٹ میں آسڑیلیا کے لیے پانچ میچز کھیل کر چھ وکٹیں تو حاصل کیں۔ لیکن اس کے بعد سے کرکٹ لیگز کھیل کر کرکٹ سے اپنا ناطہ جوڑا ہوا ہے۔

عمران طاہر (جنوبی افریقہ)

اگر عمران طاہر دنیا کے کسی بھی ملک میں کرکٹ کھیل رہے ہوتے تو ٹیسٹ ٹیم میں نو عمری میں ہی جگہ بنا لیتے لیکن پاکستان میں انہیں کسی بھی فارمیٹ میں ٹیم کی نمائندگی کا موقع نہ مل سکا۔

مشتاق احمد اور پھر دانش کنیریا جیسے مایہ ناز اسپنرز کی ٹیم میں موجودگی کی وجہ سے عمران طاہر کا پاکستان کی نمائندگی کرنے کا خواب ایک خواب ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے جنوبی افریقہ جانے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان میں فرسٹ کلاس لیول پر شاندار کارکردگی دکھانے اور جنوبی افریقہ میں کوالٹی لیگ اسپنرز نہ ہونے کی وجہ سے عمران طاہر جلد ہی جنوبی افریقی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 2011 میں انہوں نے جنوبی افریقی شہریت حاصل کرتے ہی ورلڈ کپ کے لیے بھارت جانے والی ٹیم میں جگہ حاصل کی اور وہاں سے جو سلسلہ شروع ہوا وہ دس برس تک جاری رہا۔

جب عمران طاہر نے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی تو ان کی عمر 30 سال سے بھی زیادہ تھی لیکن ان کا تجربہ ہی تھا جو ان کے کام آیا۔ انہوں نے نہ صرف 58 ون ڈے میچز میں 100 وکٹیں حاصل کر کے جنوبی افریقہ کے لیے ریکارڈ بنایا بلکہ ایک اننگز میں سب سے زیادہ سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے وہ پہلے جنوبی افریقی بالر بھی بن گئے۔

عمران طاہر ون ڈے کرکٹ میں نہ صرف ایک ہیٹ ٹرک بھی کرچکے ہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں سب سے کم میچز میں 50 وکٹوں کا جنوبی افریقہ ریکارڈ بھی انہی کے پاس ہے۔

انہوں نے جنوبی افریقی کی 20 ٹیسٹ، 107 ون ڈے اور 38 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں نمائندگی کی اور انٹرنیشنل کرکٹ میں 293 وکٹیں حاصل کیں۔

سکندر رضا (زمبابوے)

زمبابوے کرکٹ ٹیم کے مستند آل راؤنڈر سکندر رضا کا تعلق بھی پاکستان سے ہے۔ مڈل آرڈر میں بیٹنگ اور آف اسپین بالنگ کرنے والے سکندر رضا 1986 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہیں کرکٹ کا شوق پاکستان چھوڑنے کے بعد ہوا جب ان کے اہلِ خانہ ہجرت کر کے 2002 میں زمبابوے اور سکندر رضا پڑھائی مکمل کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ چلے گئے۔

انہوں نے برطانیہ میں اپنے قیام کے دوران وقت گزارنے کے لیے کرکٹ کھیلی لیکن پھر زمبابوے واپسی پر کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ 2011 میں مقامی شہریت حاصل کرنے سے قبل ہی انہوں نے سلیکٹرز کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور 2013 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف ہی ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔

اب تک وہ زمبابوے کی 17 ٹیسٹ، 103 ون ڈے اور 39 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں نمائندگی کرچکے ہیں۔ سکندر رضا ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے سینچریاں بھی بنا چکے ہیں جب کہ 94 انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو واپس پویلین بھیج چکے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں وہ زمبابوے کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG