رسائی کے لنکس

logo-print

'لائن آف کنٹرول عبور کرنا بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گا'


وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر کسی نے بھی اپنے طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملے گی — فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کا کرب وہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم لائن آف کنٹرول(ایل او سی) عبور کر کے کشمیریوں کی مدد کرنے کی کوشش بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گی۔

ہفتے کو اپنی ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر انسانی کرفیو لگے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اگر کسی نے بھی اپنے طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملے گی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسے اقدام سے بھارت کو دنیا کی توجہ جموں و کشمیر کے مسئلے سے ہٹانے کا موقع ملے گا۔ ان کے بقول بھارت کشمیری عوام پر ریاستی جبر میں مزید اضافہ کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کارروائی کا بھی جواز ڈھونڈ لے گا۔

پاکستان کے وزیر اعظم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف) کے کارکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر سے سرینگر تک مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

جے کے ایل ایف کے مطابق ہزاروں افراد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں اور پیدل افراد پر مشتمل قافلہ مظفرآباد سے چکوٹھی کی جانب رواں دواں ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق آل پارٹیز حریت کانفرنس (گیلانی) کے کنوینئر سید عبدللہ گیلانی کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کشمیریوں کو حق دیتی ہے کہ وہ منقسم کشمیر کے دونوں طرف آ جا سکیں۔

سید عبدللہ گیلانی کے بقول اگر اس حوالے سے بھارت اور پاکستان کا کوئی دو طرفہ معاہدہ ہے بھی، تو کشمیری اس میں فریق نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے آل پارٹیز حریت کانفرنس (گیلانی) کے کنوینئر نے کہا کہ انسانی ہمدردی اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں تمام کشمیری قیادت میں یہ اتفاق پایا جاتا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں محصور 80 لاکھ افراد کے لیے انسانی راہداری بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کی جانب سے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے رابطہ کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ ایل او سی کو سیز فائر لائن قرار دینے اور اسے عبور کرنے کے لیے آزادی کے اصولی فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر نہ برتی جائے۔

اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ایک جذباتی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے باشندے ہر روز پاکستانی فوج کا انتظار کرتے ہیں۔

خود وزیر اعظم پاکستان گزشتہ ماہ اسلام آباد میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہہ چکے ہیں کہ وہ خود اعلان کریں گے کہ لائن آف کنٹرول کب جانا ہے۔

بھارت کی جانب سے پانچ اگست کو کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدامات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے ہی جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے ان اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جے کے ایل ایف کا ردعمل

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان رفیق ڈار نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نہ تو بھارت اور نہ پاکستان کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ رفیق ڈار کے بقول وہ صرف کشمیری عوام کے ایجنٹ ہیں۔

لائن آف کنٹرول کے اطراف پاکستان اور بھارت کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
لائن آف کنٹرول کے اطراف پاکستان اور بھارت کی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنا بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت تنازع کشمیر کے حل کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کو بھی مسترد کرتا رہا ہے۔ بھارت وزیر اعظم نریندر مودی واضح کر چکے ہیں کہ شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کے مطابق پاکستان اور بھارت دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنے کے پابند ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو ماہ سے جاری کرفیو کے باعث نقل و حمل متاثر ہے۔ جب کہ مواصلاتی رابطے بھی محدود ہیں۔

پانچ اگست کے بعد سے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے قریب احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف اہم شخصیات اور سیاست دان بھی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے لائن آف کنٹرول کا دورہ کر رہے ہیں۔

بھارت پاکستان پر یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارت میں دارندازی کے لیے عسکریت پسندوں کو بھیجتا ہے۔ رواں سال فروری میں بھارتی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی بس پر ہونے والے خود کش حملے میں 40 سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG