رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ایران, چیلنج اور توقعات


Pak-Iran-Flag

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان ایران کے دو روزہ دورے پر اتوار کو مشہد پہنچے تھے۔ ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق مشہد میں اپنے مختصر قیام کے دوران اُنہوں نے امام موسیٰ رضا کے مزار پر حاضری دی۔ بعد ازاں وہ جہاز کے ذریعے تہران روانہ ہو گئے جہاں پیر کو انہوں نے ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان ایسے وقت میں ایران کا دورہ کر رہے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔

حال ہی میں گوادر کے قریب اورماڑہ میں ہونے والے حملے میں پاکستان نیوی کے اہل کاروں سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے الزام لگایا تھا کہ حملہ آور ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

اس سے قبل بھی پاکستان اور ایران سرحد کے قریب ہونے والوں حملوں کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے مابین اعتماد کا فقدان ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کا دورہ تعلقات میں بہتری کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اُمور کی ماہر ہما بقائی کا کہنا ہے دہشت گردی پاکستان اور ایران کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک اس معاملے پر ایک دوسرے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

ہما بقائی کے مطابق پاکستان کا یہ اعتراض رہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ایران کی سرزمین استعمال ہوتی ہے۔ جبکہ ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بعض سرگرم عسکریت پسند ایران میں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

گذشتہ سال وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد عمران خان کا یہ پہلا دورہ ایران ہے۔ عمران خان خطے میں ایران کے مخالف سمجھے جانے والے سعودی عرب کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔

ہما بقائی کے مطابق اسلام آباد کی کوشش رہی ہے کہ ریاض کے ساتھ اس کی گرمجوشی کا اثر تہران کے ساتھ تعلقات پر نہ پڑے۔ اسی لئے پاکستان ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔

کیا عالمی پابندیوں کے شکار ایران سے تجارت ہوسکتی ہے

بین الاقوامی امور کی ماہر ماریہ سلطان کا کہنا کہ اسلام آباد اور ایران اپنے باہمی تجارتی تعلقات کو بہتر کر کے باہمی اعتماد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں کے باوجود دونوں ممالک علاقائی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کے بقول ایران پر عائد تجارتی پابندیوں کی وجہ سے پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہے۔

تاہم ہما بقائی کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کیے باوجود بعض ملکوں کو ایران سے تیل کی مصنوعات درآمد کرنے کے لیے استثنیٰ دیا گیا ہے تو اچھی سفارت کاری سے پاکستان بھی یہ سہولت حاصل کر سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG