رسائی کے لنکس

logo-print

حافظ سعید سے متعلق چین سے کوئی بات نہیں ہوئی: وزیرِ اعظم عباسی


فائل فوٹو

ایک بھارتی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین میں ہونے والی باؤ کانفرنس کے موقع پر شاہد خاقان عباسی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ہونے والی ملاقات میں حافظ سعید کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ گزشتہ ماہ ان کے دورۂ چین کے دوران چینی قیادت سے ہونے والی گفتگو میں چین نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو کسی مغربی ایشائی ملک منتقل کرنے کے بارے میں غور کرے۔

ایک بھارتی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین میں ہونے والی باؤ کانفرنس کے موقع پر شاہد خاقان عباسی کی چینی صدر شی جن پنگ سے ہونے والی ملاقات میں حافظ سعید کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا تھا۔

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' کے ساتھ ایک انٹرویو میں بھارتی اخبار کی رپورٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرِ اعظم عباسی نے کہا کہ ایسی کوئی بات چین اور نہ ہی پاکستان کی طرف سے کی گئی اور اس سے قبل ان کی چینی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں بھی حافظ سعید کے موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

انہو ں نے کہا کہ وہ اس خبر کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

"میں نے وہ خبر تو نہیں دیکھی ہے لیکن اگر (ان کو متنقل کرنے سے متعلق) کوئی خبر دی گئی ہے کہ حافظ سعید (چینی قیادت سے)، ان ملاقاتوں میں جو کہ دو تین علیحدہ نشستیں تھیں، جن میں کوئی رسمی اور کچھ غیر رسمی تھیں، ان میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ یہ بات بالکل غلط بیانی ہے۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔"

بھارتی اخبار نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک قریبی معاون کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ چینی صدر شی نے یہ تجویز گزشتہ ماہ باؤ کانفرنس کے موقع پر وزیرِ اعظم عباسی کو اس وقت دی جب ان دونوں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق چینی حکام اس خبر کو حیران کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔

بھارت اور امریکہ کی طرف سے حافظ سعید کے بعض کالعدم شدت پسند تنظمیوں کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ سے پاکستان سے ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کے خلاف پاکستان میں کوئی مقدمہ درج نہیں ہے اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔

بھارت 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام حافظ سعید پر عائد کرتا ہے لیکن حافظ سعید اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

ان حملوں میں چھ امریکی شہریوں سمیت 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ کا محکمہ خارجہ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے اور امریکی حکومت ان کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک کروڑ ڈالر انعام بھی مقرر کر رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG