رسائی کے لنکس

پولیس حکام کے مطابق ملزم پرویز مسیح کا تعلق ضلع قصور کے قصبے گاڑے والا سے ہے۔ اس کے خلاف گاؤں کے نمبر دار خالد کی طرف سے توہین مذہب کا مقدمہ درج کروانے کے بعد اسے گرفتار کیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے وسطی ضلع قصور میں پولیس نے ایک مسیحی شخص کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم پرویز مسیح کا تعلق ضلع قصور کے قصبے گاڑے والا سے ہے۔ اس کے خلاف گاؤں کے نمبر دار خالد کی طرف سے توہین مذہب کا مقدمہ درج کروانے کے بعد چار روز قبل گرفتار کیا گیا ہے۔

مقامی تھانے کے انچارج علی حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مقدمے کے مدعی خالد کے مطابق ملزم پرویز مسیح دو ستمبر کو ایک زیر تعمیر عمارت پر مزدوری کر رہا تھا کہ اس کا وہیں کام کرنے والے ایک اور مزدور کے ساتھ کسی معاملے پر تلخ کلامی ہوئی جس میں پرویز نے مبینہ طور ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین مذہب کے زمرے میں آتے ہیں۔

علی حسین نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزم پرویز کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پاکستان میں کسی بھی علاقے میں توہین مذہب کے مبینہ واقعات پیش آنے کے بعد بعض اوقات لوگوں کے مشتعل ہونے کی صورت میں امن و امان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑے والا گاؤں میں اس واقعہ کے بعد صورت حال پرامن ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ انتہائی حساس تصور کیا جاتا ہے اور سول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں جس کے سدباب کے لیے قانون میں ترمیم ضروری ہے۔

دوسری طرف معاشرے کی مذہبی طبقے اور تنظیمیں اس موقف سے اتفاق نہیں کرتیں اور وہ اس قانون میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی سخت مخالف ہیں۔

XS
SM
MD
LG